Friday, 11 April, 2008, 11:38 GMT 16:38 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان نشنل پارٹی کی اپیل پر جماعت کے سربراہ سردار اختر مینگل سمیت دیگر سیاسی کارکنوں کی رہائی کے لیے پہیہ جام ہڑتال کی ہے۔
کوئٹہ کے سریاب روڈ اور بروری روڈ پر ٹریفک کم رہی جبکہ شہر کے دیگر علاقوں مں جزوی طور پر ٹریفک تھی۔ کوئٹہ کو تفتان، کراچی اور
سبی سے ملانے والی شاہراہیں مختلف مقامات پر بلاک کی گئیں۔
بی این پی کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہڑتال سردار اختر مینگل سمیت سیاسی کارکنوں کی رہائی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اور بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن اور چھاونیوں کے قیام کے خلاف کی جا رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہڑتال کامیاب رہی ہے اور کمرشل گاڑیاں کہیں نہیں چلیں اور اگر کہیں گاڑیاں ہیں تو وہ ذاتی استعمال کی گاڑیاں ہیں۔
قلات، خضدار، مستونگ، نوشکی اور دیگر علاقوں سے بھی ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ تربت اور پنجگور میں دکانیں تو بند ہیں لیکن ٹریفک جزوی طور رواں ہے۔
حبیب جالب نے کہا کہ قومی شاہراہوں کو مختلف مقامات پر بند کیا گیا ہے جبکہ پولیس نے سریاب روڈ کے علاقے سے ان کے لگ بھگ چالیس کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔
یاد رہے وزیر اعلٰی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی میں اپنی تقریر میں مطالبہ کیا تھا کہ سردار اختر مینگل اور گرفتار سیاسی کارکنوں کو رہا کیا جائے اور لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے۔
بلوچستان اسمبلی نے متفقہ طور پر قرار داد منظور کی ہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے۔