Thursday, 10 April, 2008, 11:59 GMT 16:59 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی نو منتخب قومی اسمبلی کے پہلے باضابطہ اجلاس میں سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے مسلم لیگ (ق) کے رہنما پرویز الہیٰ کے قائد حزب اختلاف ہونے کا اعلان کیا ہے۔
جمعرات کو اسمبلی کا اجلاس تقریباً پونے دو گھنٹے کی تاخیر سےگیارہ بج کر چالیس منٹ پر شروع ہوا اور یہ اعلان اجلاس کے آغاز پر کیا گیا۔
صحافیوں نے کراچی میں اپنے ساتھیوں پر تشدد اور کیمرے چھیننے کے خلاف قومی اسمبلی کے پہلے باضابطہ اجلاس سے علامتی واک آؤٹ کیا جب کہ مسلم لیگ (ق) اور ان کی اتحادی اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قائد ایوان نامزد ہونے پر پرویز الہیٰ کو مبارکباد دی۔ انہوں نے ایک بار پھر قواعد کے برعکس اپنی لکھی ہوئی تقریر پڑھتے ہوئے کراچی میں گزشتہ روز صحافیوں اور وکلا پر تشدد، چند روز قبل کراچی میں سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام الرحیم اور لاہور میں سابق وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی پر تشدد کی بھرپور مذمت کی۔
وزیراعظم نے ان واقعات کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا اور کہا کہ مجرموں کو بے نقاب کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ان کے بقول ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو نے جو قربانیاں دی ہیں انہیں رائیگاں
جانے نہیں دیا جائے گا۔
|
وزیر اطلاعات کی یقین دہانی
|
وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمٰن نے صحافیوں کے نمائندوں سے ملاقات کرکے یقین دلایا کہ حکومت صحافیوں کے تحفظ کی ہرممکن کوشش کرے گی۔
انہوں نے صحافیوں پر تشدد کی مذمت کی اور کہا کہ ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ ان کے بقول ابھی جمہوری حکومت کے پاؤں مضبوط ہی نہیں ہوئے کہ بعض غیر جمہوری قوتیں اس کی جڑیں اکھاڑنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ ان کی درخواست پر صحافیوں نے واک آؤٹ ختم کر دیا۔
بعد میں شیری رحمٰن نے قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے جہاں صحافیوں پر تشدد کی مذمت کی وہاں صحافیوں کے لیے انشورنس سکیم شروع کرنے سمیت صحافیوں کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کرنے کا یقین بھی دلایا۔
قائدِ حزبِ اختلاف پرویز الٰہی نے اجلاس میں سندھ اسمبلی میں ارباب غلام الرحیم کو جوتا مارنے اور لاہور میں ڈاکٹر شیر افگن نیازی پر ہونے والے تشدد کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دے کر جس اچھی روایت کا آغاز کیا حکومت نے اس کا مثبت جواب نہیں دیا۔
پرویز الہیٰ نے اس تاثر کو رد کیا کہ سندھ اور پنجاب میں ان کے حامیوں پر تشدد کی کارروائیوں کی ذمہ داری نگران حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں صوبائی حکومت بننے سے قبل ہی چیف سیکریٹری سمیت اہم سرکاری افسران کے تبادلے شروع ہوگئے ہیں جو کہ نئی بننے والی حکومت کے ایما پر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ارباب رحیم اور ڈاکٹر شیر افگن نیازی پر تشدد کے خلاف بائیکاٹ کا اعلان کیا تو مسلم لیگ (ف) اور متحدہ قومی موومنٹ کے ارکین نے بھی ان کا ساتھ دیا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما اور محنت و افرادی قوت کے وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے اپوزیشن کو منانے کی کوشش کی لیکن وہ ایوان میں نہیں
آئے۔
|
نگراں حکومتیں ذمہ دار نہیں
|
بلوچستان میں مسلم لیگ (ق) اکیلی بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی لیکن جب ان کی پارٹی صوبے میں حکومت نہیں بنا سکی اور اس کے بیشتر اراکین پیپلز پارٹی کی سربراہی میں بننے والی حکومت میں شامل ہوگئے تو جام یوسف نے صوبائی اسمبلی کی نشست چھوڑنے کو ترجیح دی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس انتہائی سخت سیکیورٹی میں منعقد ہوا لیکن وہ چہل پہل نظر نہیں آئی جو ابتدائی اجلاسوں میں دیکھنے کو ملتی رہی۔ مہمانوں کی گیلریاں خالی نظر آئیں لیکن سندھ کے سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام الرحیم اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی ایوان کی گیلریوں میں بیٹھے رہے۔
جمعرات کو قومی اسمبلی کی زیادہ تر کارروائی ڈپٹی سپیکر کی صدارت میں ہوئی۔ جس دوران وزیر قانون فاروق حمید نائک نے چار آرڈیننس پیش کیے اور نو قائمہ کمیٹیوں کے قیام کا اعلان بھی کیا۔ ایوان میں مسلم لیگ (ن) کے راجہ اسد نے ملک میں بجلی کے بحران اور سابقہ حکومت کی نا اہلی کے بارے میں بحث کے لیے تحریک التویٰ پیش کی جو منظور کر لی گئی۔ جس کے بعد قومی اسمبلی کی مزید کارروائی جمعہ کی صبح دس بجے تک ملتوی کردی گئی۔