Wednesday, 09 April, 2008, 08:22 GMT 13:22 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی کے ساتھ گزشتہ روز لاہور میں بدسلوکی پر ان کے آبائی شہر میانوالی میں بدھ کے روز زبردست احتجاج کیا گیا۔
میانوالی میں احتجاج کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری نے ضلع کچہری کو گھیرے میں لے لیا اور کچہری کی طرف جانے والے تمام راستے بند کردیئے۔
میانوالی سے بدھ کو تمام دن حالات انتہائی کشیدہ رہے اور مشتعل مظاہرین کی ٹولیاں شہر کے مختلف مقامات پر کھڑی رہیں۔
مظاہرین نے جگہ جگہ ٹائروں کو آگ لگا کر ٹریفک بند کر دی اور سرگودھا جانے والی شاہراہ کو بھی رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا۔
شہر میں تاجر برادری نے بھی احتجاجاً مکمل ہڑتال کی اور شہر میں تمام کاروباری مراکز بند ہیں۔
مظاہروں کا آغاز کل رات شیر افگن پر تشدد کے بعد ہوا، مرکزی شاہراہ کے علاوہ مختلف سڑکوں کو ٹائر جلا کر بند کر دیا گیا۔
گزشتہ روز سابق وزیر قانون و پارلیمانی امورشیرافگن خان نیازی کو لاہور میں وکلاء نے بدسلوکی کانشانہ بنایا ان کے سر پر جوتا مارا گیا، گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا گیا اور چار گھنٹے تک انہیں ایک کمرے میں محبوس رکھاگیا۔
سابق وزیر کی رہائی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن اور دیگر وکلاء رہنماؤں کی مداخلت سے عمل میں آ سکی۔
شیرافگن خان نیازی منگل کی سہہ پہر اپنے رشتہ دار وکلاء سے ملنے کے لیے مزنگ روڈ پر ایک لاء چیمبر پہنچے تھے اسی دوران چند وکلاء چیمبرکے باہر پہنچ گئے اور نعرے بازی کے بعد انہوں نے چیمبر کو باہر سے تالا لگا دیا۔
وکلاء نے انڈے اور ٹماٹر اٹھا رکھے تھے اور بار بار اعلان کررہے تھے کہ وہ یہ سامان شیر افگن خان نیازی پر برسانے کے لیے لائے ہیں۔
وکلاء نے اس موقع پر صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرے بازی کی وہ نعرے لگا رہے تھے کہ گو مشرف گو،’مک گیا تیرا شو مشرف‘۔