Wednesday, 09 April, 2008, 08:53 GMT 13:53 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی پولیس نے سندھ اسمبلی میں سابق وزیراعلی ٰ ارباب غلام رحیم پر حملے میں ملوث شخص آغا جاوید پٹھان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
کراچی پولیس کے سربراہ نیاز احمد صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ جاوید پٹھان کوگزشتہ روزگرفتار کیا گیا اور مزید کارروائی کی جارہی ہے۔
آغا جاوید پر الزام ہے کہ انہوں نے سندھ اسمبلی کے ایوان میں اس وقت مسلم لیگ ( ق) کے صوبائی صدر ارباب غلام رحیم کوگالیاں دیتے ہوئے جوتا اتار کر ماراجب وہ رکنیت کا حلف لینے کے لیے ایوان میں داخل ہو رہے تھے۔
اس واقعے کے بعد سے سندھ کا سیاسی منظر نامہ میں تبدیلی آگئی، متحدہ قومی موومنٹ نے ایوان کا غیر معینہ مدت تک بائیکاٹ کردیا جبکہ
مسلم لیگ (ق)، مسلم لیگ فنکشنل اور نیشنل پیپلز پارٹی نے بھی ارباب غلام رحیم کی حمایت کرتے ہوئے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔
|
نا فرمان بیٹا
|
مقامی نیوز چینل کے ایک پروگرام میں گزشتہ شب آغا جاوید نے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ہی ارباب غلام رحیم کو جوتا مارا تھا اور یہ انہوں نے کسی کے کہنے پر نہیں کیا بلکہ جذبات میں آ کر کیا ہے کیونکہ بقول ان کے’ارباب غلام رحیم سندھ کا نافرمان بیٹا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے سینئر رکن ہیں اور اس سے پیپلز پارٹی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور اگر ’یہ واقعہ اس روز نہ ہوتا تو کسی اور روز ہوتا۔،