Thursday, 10 April, 2008, 04:24 GMT 09:24 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان اور افغانستان میں مبینہ طور پر سرگرم القاعدہ کے ایک رکن ابوعبدالرحمن ابوعکاشہ العراقی نے اپنے ویڈیو پیغام میں امریکہ پر مزید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ چال کے مطابق افغانستان میں پھنس گیا ہے۔
ابو عبدالرحمن ابو عکاشہ العراقی نے بی بی سی اردو سروس کو بھیجی جانے والی ایک ویڈیو ٹیپ میں کہا ہے کہ امریکہ چال کے مطابق افغانستان میں پھنس گیا ہے۔
شلوار قمیض میں ملبوس ابو عکاشہ کو کالی وردیوں میں ملبوس اپنے ایک درجن کے قریب نقاب پوش جنگجؤوں کوجنگی تربیت دیتے ہوئے دکھایا
گیا ہے۔
|
القاعدہ کے تادیبی کارروائی
|
ابو عکاشہ نے کہا کہ امریکہ وہ یہ بات جان لے کہ القاعدہ کے ایک رہنماء کے قتل سے ’جہاد‘ کا سلسلہ ختم ہو نہیں جائے گا بلکہ بقول ان کےاس میں مزید تیزی آئے گی۔ان کے مطابق پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد بھی جہاد جاری رہا۔
یہ ویڈیو ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب قبائلی علاقوں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران بغیر پائلٹ کے طیاروں سے کیے جانے والے حملوں کے ذریعے القاعدہ کے کئی مبینہ رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاکستانی فوجی ذرائع نے گزشتہ دنوں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ یہ حملے امریکیوں نے کیے تھا۔
ڈنمارک اور برطانیہ کے اخبارات میں پیغمبر اسلام کے ’ توہین آمیز‘ خاکوں کا ذکر کرتے ہوئے ابو عکاشہ کا کہنا ہے کہ’خود کو جمہوری ملک کہنے والے یہ دونوں ممالک یہودیوں اور عیسائیوں کے اصل مراکز ہیں جنہوں نے خاکے بنا کر پیغمبر اسلام کا مذاق اڑانے کی کوشش کی ہے۔‘
ان کے بقول’برطانیہ سلمان رشدی کی معاونت کر رہا ہے جنہوں نے پیغمبر اسلام کے خلاف کتاب لکھی ہے۔ جو بھی پیغمبر اسلام کے خلاف کچھ کہنے کی جسارت کرے گا ہم اسے عبرتناک سزا دیں گے۔‘
ابو عکاشہ نے عربی زبان میں اس تقریر میں سوال اٹھایا ہے کہ’امریکہ روس کے خلاف جنگ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کیوں نہیں کہہ رہا تھا بلکہ امریکہ نے تو روس کے خلاف جنگ میں دنیا بھر سےآنے والے مجاہدین پر تمام دروازے کھول دیے تھے۔‘
ابو عکاشہ کے مطابق روس کے خلاف جنگ کے دوران کراچی، اسلام آباد، پشاور اور دیگر مقامات ان کی تنظیم کے مراکز قائم تھے اور کوئی بھی اسے دہشتگردی نہیں کہتا تھا بلکہ انہیں ہرقسم کا اسلحہ فراہم کیا جاتا رہا تھا۔‘
ابو عبدالرحمن عکاشہ پاکستان اور افغانستان میں مبینہ طور پر سرگرم القاعدہ کے مالی معاملات کے نگران بتائے جاتے ہیں تاہم مقامی ذرائع کے مطابق انہیں کئی ماہ قبل القاعدہ کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں پر ضرورت سے زیادہ پیسے خرچ کرنے کے الزام میں اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا جس کے بعد سے ان کے القاعدہ کی قیادت کے ساتھ بعض اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آج کل ابو عکاشہ اپنا الگ گروپ بنانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں تاہم افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم مقامی طالبا ن کی قیادت نے ان سے بعض ملاقاتیں کی ہیں تاکہ انہیں ایسا کرنے سےروکا جاسکے۔
ابو عکاشہ کا تعلق عراق سے ہے اور وہ انیس سو چھیانوے میں القاعدہ کے دیگر ارکان کے ہمراہ افغانستان آئے تھے تاہم گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد افغانستان میں امریکی حملے کے نتیجہ میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کےبعد وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقے منتقل ہوگئے تھے جس کے بعد سے ذرائع کے مطابق وہ پاک افغان سرحد کے آر پار اپنی جگہ تبدیل کرتے رہتے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ پینتالیس سالہ ابو عکاشہ کو پشتو زبان پر عبور حاصل ہے اور مقامی لوگ انہیں حاجی عکاشہ خان کے نام سے پکارتے ہیں۔
اکتوبر دو ہزار کے دوران افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہاں موجود امریکہ اور نیٹو فورسز کے حکام تواتر کے ساتھ
پاکستان پر یہ الزام لگاتے آ رہے ہیں کہ اس کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے ارکان موجود ہیں تاہم پاکستان نے ہمیشہ ان الزامات
کی تردید کی ہے۔