Sunday, 06 April, 2008, 12:10 GMT 17:10 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں مقامی انتظامیہ نےگزشتہ روز فوج کی نگرانی میں مسافرگاڑیوں کے ایک قافلے پر بم حملے کے الزام میں دس افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
دوسری جانب جبکہ امن جرگہ مسلح قبائل کے مابین عارضی جنگ بندی کرانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
کرم ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح پولیٹکل انتظامیہ نے قبائلی جرگوں کے توسط سے لوئر کرم کے علاقے خوارکلی سے دس افراد کو حراست میں لیا ہے۔
ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان لوگوں پر مسافرگاڑیوں کے قافلے پر بم حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ اس سلسلے میں ایک دو روز میں مزید گرفتاریاں کرے گی۔
ادھر ہنگو کے شیعہ اور سنی مشران پر مشتمل امن جرگہ نے کرم ایجنسی میں چوبیس گھنٹوں کی لڑائی کے بعد فریقین کے مابین عارضی فائر بندی کرا دی ہے۔ہنگو امن جرگہ کے ایک رکن شاہ حسین خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگہ کی کوششوں سے دونوں فریق جنگ بندی پر رضامند ہوگئے جس کے بعد علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔
تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا سلسلہ ابھی مکمل طور بند نہیں ہوا ہے بلکہ کچھ مورچوں سے فریقین اب بھی وففے وففے سے ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سنیچر کی صبح بم حملے کے بعد لوئر کرم کے علاقوں میں فرقہ وارانہ جھڑپیں ثروع ہوئی تھیں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات فریقین نے لوئر کرم کے علاقوں صدہ ، بالش خیل ، سنگینہ اور خوار کلی میں ایک دوسرے کے مورچوں پر بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملے کیے جس میں لیوی اہلکار اور ایک خاتون سمیت تین افراد زخمی ہوگئے ۔
واضح رہے کہ سنیچر کی صبح پارہ چنار سے فوج کی نگرانی میں پشاور جانے والےمسافر گاڑیوں کے ایک قافلے پر لوئر کرم کے علاقے خوار کلی کے قریب نامعلوم بم حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک راہگیر ہلاک ہوا تھا۔ اس واقعہ کے بعد فرقہ وارانہ جھڑپیں شروع ہوئیں جس میں دو مزید افراد ہلاک اور ایک درجن کے قریب زخمی ہوئے۔
کرم ایجنسی میں گزشتہ ایک سال کے دوران تین مرتبہ فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں تین سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔