Thursday, 03 April, 2008, 19:01 GMT 00:01 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری جمعرات کو مبینہ طور پر موسم کی خرابی کی وجہ سے اسلام آباد نہیں جا سکے اور اطلاعات ہیں کہ حکومت کی درخواست پر اب معزول چیف جسٹس وکلاء کی کسی تقریب سے اس وقت تک خطاب نہیں کرنے جائیں گے جب تک پارلیمان ان کی معزولی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر لیتی۔
کوئٹہ میں چار دن گزارنے کے بعد جمعرات کو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری واپس اسلام آباد جا رہے تھے لیکن ائر پورٹ پر انہیں بتایا گیا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے جہاز کوئٹہ ائر پورٹ نہیں اتر سکا جس وجہ سے وہ اسلام آباد نہیں جا سکتے۔
اس بارے میں بلوچستان بار ایسسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر فاروق اے نائک نے کوئٹہ کی استقبال کے بعد ٹیلیفون کیا تھا جس میں انہوں نے درخواست کی تھی کہ جسٹس افتخار چوہدری پارلیمان کے فیصلے تک وکلاء کی کسی تقریب سے خطاب نہ کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وکلاء قائدین نے یہ فیصلہ پہلے سے کیا تھا کہ جب تک پارلیمان معزول ججز کو عدالتوں میں باقاعدہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں دے دیتی تب تک جسٹس افتخار محمد چوہدری کسی بار کی تقریب سے خطاب نہیں کریں گے۔
باز محمد کاکڑ کے مطابق معزول ججز کے حوالے سے ملک کے سولہ کروڑ عوام کافی فکر مند ہیں اور جسٹس افتخار چوہدری جہاں جاتے ہیں وہاں بڑی تعداد میں لوگ پہنچ جاتے ہیں جس سے مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کوئٹہ آنے سے پہلے جسٹس افتخار چوہدری کو ملک کی کوئی تیس بار ایسوسی ایشنز نے خطاب کی دعوت دی گئی تھی لیکن کوئٹہ آنے کا مقصد اپنے رشتہ داروں سے ملنا تھا۔