Wednesday, 02 April, 2008, 10:44 GMT 15:44 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ ہائی کورٹ نے میر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی بریت کی درخواست پیر تک ملتوی کر دی ہے۔
جسٹس پیر علی شاہ کی عدالت میں بدھ کو اس درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں آصف علی زرداری کے وکیل شہادت اعوان نے تین گواہوں کے بیان پڑھ کر سنائے اور ان پر اعتراضات کیے۔ بعد ازاں وقت کی کمی کے باعث عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔
آصف علی زرداری کے وکیل شہادت اعوان نے اس درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے موکل بے قصور ہیں، ابتدائی ایف آئی آر میں بھی ان کا نام شامل نہیں تھا مگر بعد میں اس وقت کے نگران وزیر اعلیٰ کی ذاتی رنجش کی وجہ سے ان کا نام شامل کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کراچی میں انیس سو چھیانوے کو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی رہائش گاہ ستر کلفٹن کے قریب میر مرتضیٰ بھٹو پولیس فائرنگ میں ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے اکیس دن کے بعد ان کی بہن بینظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا گیا تھا۔
اس قتل میں اس وقت کی وزیراعظم بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری، سابق وزیر اعلیٰ عبداللہ شاہ، ڈی آئی جی شعیب سڈل، ایس ایس پی واجد درانی، اے ایس پی رائے طاہر، اے ایس پی شاہد حیات، پولیس افسر شبیر قائم خانی اور آغا طاہر ملزم قرار دیئے گئے تھے۔
واقعے کی چار مختلف ایف آئی آر دائر کی گئی تھیں، جبکہ ایک سو دو گواہ تھے جن میں مرتضیُ بھٹو کی اہلیہ غنویٰ بھٹو اور بیٹی فاطمہ بھٹو بھی شامل تھیں۔ دس سالوں میں بتیس گواہوں کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں جبکہ وزیراعلٰی ہاؤس کے دو سپاہیوں سمیت ستر گواہوں کے بیانات باقی ہیں۔
ابتدائی ایف آئی آر میں آصف زرداری کا نام شامل نہیں تھا مگر بعد میں ایک گواہ اصغر علی کے اس بیان کے بعد ان کا نام شامل کیا
گیا جس میں انہوں نے کہا کہ اس نے زخمی مرتضٰی بھٹو کو عاشق جتوئی سے یہ بات کرتے ہوئے سنا تھا
’ آصف علی زرداری اور وزیر اعلیٰ عبداللہ شاہ نے پولیس سے یہ کام کروالیا اور وہ جیت گئے ہم ہار گئے‘۔
ایک طویل عرصے میں جہاں تین حکومتیں تبدیل ہوچکی ہیں وہاں اس مقدمے کے چار ججز بدل چکے ہیں اور اب سیشن جج ایسٹ کراچی ظفر علی خان کی عدالت میں یہ مقدمہ زیر سماعت ہے۔