http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 02 April, 2008, 14:27 GMT 19:27 PST

آصف فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام،اسلام آْباد

قیدیوں کی رہائی پر بات چیت جلد

پاکستان اور بھارت اس ماہ کے آخر میں دونوں ملکوں کی جیلوں میں موجود ایک دوسرے کے قیدیوں کی رہائی کا جائزہ لیں گے۔

یہ بات بدھ کو دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتائی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاک۔بھارت عدالتی کمیٹی کا اجلاس رواں ماہ کے دوران اسلام آباد میں ہوگا جس میں دونوں ممالک کے سرکاری اور عدالتی حکام ان قیدیوں کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے اور ان کی رہائی کے لئے اقدامات تجویز کریں گے۔

ترجمان نے بتایا کہ اکتیس مارچ کو پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے کے ملک میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے جس کے مطابق بھارتی جیلوں میں ایک سو تنتیس پاکستانی سویلین قیدی اور چودہ ماہی گیر موجود ہیں۔ بھارتی حکام نے ان پاکستانیوں کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان میں موجود بھارتی قیدیوں کی فہرست بھی بھارتی حکام کے حوالے کی جا چکی ہے جس میں یہاں قید ترپن سویلین قیدیوں اور چار سو چھتیس ماہی گیروں کے تفصیلی کوائف درج کیے گئے ہیں۔ محمد صادق نے کہا کہ قیدیوں کے بارے میں ان کوائف کی روشنی میں عدالتی کمیٹی ان قیدیوں کے مقدمات کا جائزہ لے گی۔

بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نرائنن کی جانب سے پاکستان پر بھارتی مسلح گروپوں کی مدد کرنے کے الزام کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان غیر ممالک میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور دونوں ممالک کے درمیا جاری امن عمل کو متاثر کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کو اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ کشمیر میں تشدد بھارتی قبضے کی وجہ سے ہے۔