Monday, 31 March, 2008, 15:07 GMT 20:07 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
چوبیس رکنی وفاقی کابینہ کو ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں دیکھ رہا ہے۔ کوئی گِن کے بتا رہا ہے کہ اس کابینہ میں ایک چوتھائی وزراء یا تو کشمیری النسل ہیں یا پھر سیّد۔ کوئی علاقائی سطح پر آنکڑے لگا کر بتا رہا ہے کہ کابینہ میں لاہور اور راولپنڈی کی نمائندگی باقی علاقوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔
لیکن ایک انگریزی اخبار نے بڑی عرق ریزی سے کی گئی تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ کابینہ میں کوئی شائد ہی کوئی ایسا وزیر ہو جس نے صدر مشرف کے نو سالہ دور میں کوئی مقدمہ، جرمانہ، قید یا تشدد نہ بھگتا ہو۔
اخبار دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق صدر مشرف کے سب سے زیادہ ستائے ہوئے تو خود وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی ہیں جنہیں بطور سپیکر قومی اسمبلی ناجائز تقرریوں کی پاداش میں مشرف حکومت نے پانچ برس تک جیل میں رکھا اور پھر بری کرنا پڑا۔
آج گیلانی کابینہ کے جن وزرا نے حلف اٹھایا ان میں وزیرِ نجکاری و سرمایہ کاری و جہاز رانی سید نوید قمر نے مشرف دور میں ایک برس سے زائد قید بھگتی ہے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے بینظیر حکومت کے دوسرے دور میں نجکاری کے عمل میں بے قاعدگی کی تھی۔
پانی و بجلی کے وزیر راجہ پرویز اشرف نے آصف زرداری کے خلاف نیب میں چلنے والے ایک مقدمے میں بطور ضمانت دس لاکھ روپے مالیت املاک
کے کاغذات جمع کروائے۔ جنہیں نیب نے ضبط کرلیا۔
![]() |
|
| مشرف حکومت نے بلا کسی فردِ جرم کے ڈیڑھ برس تک قید میں رکھا |
کابینہ کے سینئر وزیر برائے مواصلات و خوراک و زراعت چوہدری نثار علی خان کو مشرف حکومت نے بلا کسی فردِ جرم کے ڈیڑھ برس تک قید میں رکھا۔ وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کو مشرف حکومت نےسترہ ماہ تک اٹک کے قلعے اور پھر گھر پر نظربند رکھا اور انہیں شریف خاندان کی جلاوطنی کے بعد چھوڑا گیا۔
اسی طرح وزیرِ تعلیم احسن اقبال اور وزیر برائے امورِ خواتین تہمینہ دولتانہ کو اگرچہ مقدمات کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن مشرف
مخالف مظاہروں کے دوران دونوں اکثر تشدد کا نشانہ بنتے رہے۔ جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے احسن اقبال کی جانب سے یونیورسٹی قائم
کرنے کے اجازت نامے کی فائل کو مسلسل دبائے رکھا۔
|
|
دفاعی پیداوار کے وزیر رانا تنویر حسین بھی آٹھ ماہ تک جیل میں رہے اور پھر بری ہوگئے۔ جبکہ وزیرِ تجارت شاھد خاقان عباسی نے مشرف طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں سترہ ماہ کی قید کاٹی۔
وزیرِ امورِ نوجوانان خواجہ سعد رفیق نے مشرف دور میں متعدد مرتبہ جیل کی ہوا کھائی۔ ایک مرتبہ تو انہیں اس لئے گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے ڈنمارک کے اخبارات میں شائع ہونے والے اشتعال انگیز مذہبی کارٹونوں کے خلاف مظاہرے میں حصہ لیا تھا۔
اور آج صدر مشرف کو اپنے ہی دور میں ستائے ہوئے ان لوگوں سے حلف لینا پڑ گیا۔