Monday, 31 March, 2008, 11:46 GMT 16:46 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان بھر میں وکلاء تنظمیوں نے سپریم کورٹ کے معزول جج جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کی سرکاری رہائش گاہ کا سامان باہر پھینکنے کے خلاف یوم احتجاج منایا۔
اس احتجاج کی کال سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کےصدر اعتزاز احسن نے دی تھی۔
لاہور کی ایوان عدل میں وکلاء کا ایک احتجاجی اجلاس ہوا جس سے جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے وکلاء برادری کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ وکلاء جس جرات اور بہادری سے جدوجہد کر رہے ہیں اسے پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ان کی وجہ سے قوم زندہ ہوکر اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور انہوں نے ڈکٹیٹروں کا سر جھکا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ وکلاء کی تحریک بارآور ثابت ہوگی اور ان کا قربانیاں رنگ لائیں گی۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ قوم اور وکیل مل کر ملک وقوم کی ترقی کے لیے کارنامہ انجام دے رہے ہیں جسے آنےوالی نسلیں قیامت تک یاد رکھیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے رہائش گاہ کو خالی کروانا ایک مجرمانہ فعل تھا اور وکلاء اور میڈیا نے جس طرح ان کے گھر پہنچ کر ان کا ساتھ
دیا اس کے لیے وہ ذاتی طور پر احسان مند ہیں اور ان کی آنے والی نسلیں بھی یہ احسان یاد رکھیں گی۔
|
|
پیر کو لاہور کے ایوان عدل میں ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لاہور بار کے صدر منظور قادر نے کہا کہ جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کے گھر ہونے والا حملہ غیر قانونی اقدام تھا تاہم وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس کے خلاف جو ایکشن لیا ہے اس پر وہ ان کے شکر گذار ہیں۔
اجلاس کے بعد لاہور کے وکلاء نے عدالتی امور کا بائیکاٹ کیا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے میڈیا ایڈوائز محمد اظہر کے مطابق ملک بھر کے وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔