http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 30 March, 2008, 15:59 GMT 20:59 PST

ارمان صابر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاک فوجی امداد کرے: صلاح الدین

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح جد و جہد کرنے والی تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ اور کشمیر میں مسلح جد و جہد کرنے والی انیس تنظیموں کے متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے کشمیریوں کی جدوجہد میں دی جانے والی سیاسی اور اخلاقی مدد سے مطمئن نہیں ہیں۔

صلاح الدین نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کشمیریوں کو ان کی جدوجہد میں عملی طور پر فوجی مدد دے۔ صلاح الدین کراچی کے دورے پر ہیں اور انہوں نے اتوار کو بی بی سی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اب تک پاکستان کی جانب سے جو سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مدد دی جارہی ہے وہ ناکافی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’کشمیریوں کے حق خودارادیت کے جائز مطالبہ کو کچلنے کے لئے ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں ساڑھے سات لاکھ فوج نے ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان جو اس مسئلہ کا دوسرا فریق ہے وہ صرف خاموش تماشائی بنا رہے۔ لہذا ہم اس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کو فوجی مدد فراہم کرے۔‘

انہوں نے صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہندوستان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے اقدامات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’مشرف حکومت بھارت کے ساتھ تعلقات میں لچک کا مظاہرہ کرتی رہی لیکن ادھر سے ان اقدامات کا کوئی مثبت ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا اور یکطرفہ لچک اور معذرت خواہانہ رویّے نے اس پوری جدوجہد کو نہ صرف خراب کیا بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ان اقدامات نے کشمیر کاز کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔‘

البتہ انہوں نے نئی حکومت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے کشمیر سے متعلق بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کے لئے قومی سلامتی اور بقا کا معاملہ ہے اور اس پر کوئی بھی حکومت سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کا یہ بیان کہ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات مسئلہ کشمیر کے حل سے منسلک ہیں، اطمینان بخش ہے۔

صلاح الدین نے مسلح جد و جہد کے بارے میں کہا کہ بیالیس سال تک پرامن جدوجہد کرنے کے بعد بھارتی رویے سے مجبور ہوکر مسلح جدوجہد کا آغاز کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی کشمیر میں ساڑھے سات لاکھ فوج تعینات ہے اور جب تک وہاں فوج رہے گی تو بندوق کا کردار بھی رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک بات وہ یہاں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہاں کے عوام کو نہ بندوق اٹھانے کا اور نہ ہی لڑنے کا شوق ہے لیکن وہ بھارتی رویّے کی وجہ سے مجبور ہوئے اور اگر اب بھی ہندوستان کی حکومت بامقصد مذاکرات کرنے کے لئے تیار ہو تو وہ بندوق ایک جانب رکھ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے دو ہی ممکنہ حل ہیں، ان میں سے پہلا یہ کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت حل کیا جائے یا پھر سہ فریقی بات چیت کے ذریعے کوئی ایسا حل جو کشمیریوں کو قابلِ قبول ہو۔ ان کے بقول بھارتی قیادت کی ہٹ دھرمی اور تاخیری حربے مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔