Tuesday, 25 March, 2008, 11:05 GMT 16:05 PST
احمدرضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ بھوربن معاہدے کے تحت معزول ججوں کی بحالی کے لیے طے پانے والی تیس دن کی مدت وزیر اعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی کی حلف برداری کے بعد شروع ہوگئی ہے اور اس سلسلے میں جلد ہی قومی اسمبلی میں قرار داد پیش کی جائے گی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھوربن معاہدے میں اس بات پر اتفاق رائے ہوا تھا کہ حکومت سازی کا عمل مکمل ہونے کے بعد تیس دنوں کے اندر ججوں کو بحال کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا ’تیس دن کی مدت آج سے شروع ہوگئی ہے اور کابینہ میں مسلم لیگ نون کی شمولیت کا معاملہ بھی اسی سے مشروط تھا کہ ججوں کی بحالی ہونی ہے۔ تو اس لیے یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ ہوں گی۔ کسی پریشر کی وجہ سے نہیں بلکہ باہمی اتفاق رائے سے۔‘
انہوں نے مجوزہ قرارداد کے مسودے کے بارے میں کہا کہ وہ ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے اور اس پر ابھی دونوں پارٹیوں کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے۔’قرارداد کی چنداں ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ججوں کو ایک انتظامی حکم کے ذریعے ہٹایا گیا تھا جو غیرقانونی اور غیرآئینی تھا۔ تو اسی طریقے سے ایک انتظامی حکم کے ذریعے انہیں بحال ہونا چاہیے۔ لیکن نومنتخب اسمبلی کی طاقت کو اس میں شامل کرنے کے لیے قرارداد لائی جائے گی۔‘
انہوں نے یہ تو نہیں بتایا کہ یہ قرارداد اسمبلی میں کب تک پیش کی جائے گی لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’حالات پہلے سے بہت بہتر ہیں۔ بہت سارے بادل چھٹ گئے ہیں۔ کل ججز رہا ہوئے ہیں تو انشاء اللہ جو تیس دن کی مدت ہے اس کے اندر اندر یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔‘
دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے منگل کو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی رہائشگاہ کے باہر
صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آصف علی زرداری اور نواز شریف کے قول اور نیتوں پر پورا اعتماد ہے کہ وہ اعلان مری
پر عمل کرتے ہوئے تیس دن کے اندر ججوں کو بحال کریں گے۔
![]() |
|
| اعتزاز احسن نے کہا کہ انہیں آصف علی زرداری اور نواز شریف کے قول اور نیتوں پر پورا اعتماد ہے |
انہوں نے کہا کہ ’ہم پارلیمان کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہتے ہیں لیکن پارلیمان کو ان سازشوں سے بھی آگاہ رہنا چاہیے جو ججوں کی بحالی کو روکنے کے لیے ایوان صدر میں ہو رہی ہیں اور جس کا اظہار اٹارنی جنرل آف پاکستان ملک محمد قیوم کر چکے ہیں۔‘
انہوں نے صدر پرویز مشرف کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’انہیں بیس جولائی کو استعفی دے دینا چاہیے تھا یا اس کے بعد تین نومبر یا اٹھارہ فروری کو استعفی دے دینا چاہیے تھا۔ یا پھر کل جب نومنتخب اسمبلی میں ان کے خلاف نعرے لگے۔‘
انہوں نے صدر پرویز مشرف سے کہا کہ وہ کم از کم اس دن جس دن پارلیمان ججوں کی بحالی کے حق میں قرارداد منظور کرے اپنے مستقبل کے بارے میں غور ضرور کریں۔