Tuesday, 25 March, 2008, 15:09 GMT 20:09 PST
آصف فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
مالیاتی تجزیے اور ملکوں کی معاشی کارکردگی پر نظر رکھنے والے ادارے ’سٹینڈرڈ اینڈ پوورز‘ کے مطابق پاکستان کے نئے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز کے مقابلے کے زیادہ اہل نظر نہیں آتے۔
کمپنی کے تجزیہ نگار کے مطابق اس کی بڑی وجہ غیر آزمودہ مخلوط کابینہ ہے۔
وزیراعظم کی حلف برداری کے روز جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نئے سیاسی اور جمہوری نظام کو معاشی میدان میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں اہم مالیاتی نظام میں بڑھتا عدم توازن اور خراب ہوتی خارجی صورتحال ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی جماعت کی واضح برتری نہ ہونے کے باعث بڑی جماعتوں کے درمیان پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بہتر
تعلقات کار کی ضرورت ہوگی تاکہ مخلوط حکومت کشیدگی کا شکار نہ ہو۔
|
|
یہ سیاسی خطرات طویل عرصے سے ملکی معیشت کو درپیش مسائل کے حل کی جانب حکومت کو توجہ مرکوز نہیں کرنے دیں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سرفہرست ملکی مالیاتی نظام میں بنیادی قسم کی خرابیاں ہیں جو ملکی معیشت کو مسلسل دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے خالق ایگوسٹ برنیڈ کا کہنا ہے کہ اس سال کا مالیاتی خسارہ چھ فیصد سے زیادہ ہوگا اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت کو بنیادی نوعیت کے فیصلے کرنے ہوں گے۔
کمپنی نے پاکستان کی سابقہ ریٹنگ میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے جو بدستور منفی کے ذیل میں ہے۔ اس کے بارے میں تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ایسا اس لئے ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی معیشت اب بھی رو بہ زوال ہے۔ بلکہ یہ بات بھی خارج ازامکان نہیں کہ اگر سیاسی مسائل معاشی میدان میں متوقع اہم فیصلوں پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ بنے تو یہ ریٹنگز مزید نیچے کر دی جائیں۔