Monday, 24 March, 2008, 12:14 GMT 17:14 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد طورخم میں گزشتہ رات اتحادی افواج کو تیل سپلائی کرنے والے پچاس کے قریب آئل ٹینکروں کو دھماکوں میں اڑانے کے بعد تفتیش کےلئے خاصہ دار فورس کے چار اہلکاروں سمیت سات افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ واقعہ میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں تاہم سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
پولیٹکل انتظامیہ کےمطابق اتوار کی رات پاک افغان سرحدی علاقے طورخم میں نامعلوم افراد نےافغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو
تیل سپلائی کرنے والے درجنوں آئل ٹینکروں کو پر اسرار دھماکوں میں نشانہ بنایا تھا جس سے سو کے قریب افراد زخمی ہوگئے تھے۔ دھماکوں
سے تیس آئل ٹینکر مکمل طورپر تباہ ہوگئے تھے جبکہ بیس سے زائد آئل ٹینکروں کو جزوی نقصان پہنچاہے۔
|
|
اہلکار نے بتایا کہ آگ پر قابو پانے کےلئے افغانستان سے بھی فائر بریگیڈ کا عملہ وہاں پہنچا اور پاکستانی حکام کے ساتھ ملکر آگ
بجھانے میں مدد کی۔
بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ زخمیوں کو اتحادی افواج نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سے افغانستان منتقل کیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق زخمیوں میں اکثریت آئل ٹینکروں کے کلینرز اور ڈرائیور شامل ہیں۔
![]() |
|
| افغانستان سے بھی فائر بریگیڈ کےعملے نےپاکستانی حکام کے ساتھ مل کر آگ بجھانے میں مدد کی |
واضح رہے کہ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو پاکستان سے روزانہ سینکڑوں آئل ٹینکروں کے ذریعے سے تیل سپلائی کیا جاتا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ تیل جہازوں اور دیگر مختلف قسم کے کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اس سے پہلے بھی خیبر ایجنسی میں نامعلوم افراد کی طرف سے آئل ٹینکروں کو ایک دو مرتبہ بم دھماکوں میں نشانہ بنایا جاچکا ہے۔افغانستان میں بھی متعدد بار طالبان کی طرف سے اتحادی افواج کو تیل سپلائی کرنے والے گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔