Friday, 21 March, 2008, 15:21 GMT 20:21 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے شہر خضدار میں ایک دھماکے سے دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ سوئی اور راجن پور کے درمیان نا معلوم افراد نے بجلی کے دو کھمبوں کو دھماکوں سے اڑا دیا ہے۔
ادھر کوئٹہ میں خواتین نےگرفتار اور لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے علامتی بھوک ہڑتال کی ہے۔
خضدار سے پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ دھماکہ نئے اڈے کے پاس پل پر ہوا ہے جہاں پولیس اہلکار گشت کر رہے تھے۔ اس دھماکے سے پل کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ پولیس کے مطابق پولیس اہلکار اور دو موٹر سائیکل سوار زخمی ہوئے ہیں۔
ادھر سوئی سے پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ صبح سویرے نامعلوم افراد نے ڈولی چیک پوسٹ کے قریب بجلی کے دو کھمبوں کو دھماکوں سے اڑا دیا ہے جس سے سوئی کو بجلی کی ترسیل معطل ہوگئی ہے۔
دریں اثنا اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بجلی کے کھمبوں پر حملوں کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔
ادھر کوئٹہ میں آج بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد گروپ کی طالبات نے پریس کلب کے سامنے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا۔ بی ایس او کی رکن فریدہ بلوچ نے کہا ہے بڑی تعداد میں بلوچ بےگناہ گرفتار اور لاپتہ ہیں۔ انھوں نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ علاقے کا دورہ کر کے حالات کی بہتری کے لیے اقدامات کریں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز مری اتحاد اور بی ایس او کے طالبعلموں نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور الزام عائد کیا تھا کہ سنٹرل جیل کوئٹہ میں بلوچ قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس حوالے سے انھوں نے بین القوامی تنظیموں سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔