http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 19 March, 2008, 13:53 GMT 18:53 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’ کہیں کوئی خبر نہ بن جائے‘

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار خاتون سپیکر کے انتخاب کے دوران بدھ کو ہونے والے اجلاس میں کچھ دلچسپ واقعات رونما ہوئے۔

ایک موقع پر پیپلز پارٹی اور ان کی اتحادی جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران جب احمد مختار باہر آئے تو میں نے ان سے ازراہِ مذاق پوچھا کہ کیا آپ نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ’اس سے پہلے کہ کوئی خبر بن جائے میں اجلاس میں اندر جا رہا ہوں‘۔ لیکن کچھ ہی لمحوں بعد نجی ٹی وی چینلز نے احمد مختار کے بائیکاٹ کی خبریں نشر کرنا شروع کردیں۔

پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما مخدوم امین فہیم کے آصف علی زرداری سے اختلافات کے بعد وہ پارٹی معاملات سے دور دور تھے لیکن قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے ان سے اتحادی جماعتوں کے مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کروائی گئی۔

مخدوم امین فہیم جو ابھی تک وزیراعظم بننے پر اڑے ہوئے ہیں انہوں نے پارٹی میں اپنے پراعتماد ساتھیوں کو آزمانا بھی شروع کردیا ہے۔

سپیکر کے انتحاب کے دوران نماز ظہر کا وقفہ ہوا تو مسجد سے زیادہ ہجوم کیفے ٹیریا میں نظر آیا۔ جہاں وزیراعظم کے امیدوار احمد مختار جب سینئر صحافیوں کے درمیان بیٹھے تو ایک صحافی نے آواز لگائی کہ ’ کیا احمد مختار سے وزیراعظم کی دوڑ سے باہر ہونے پر تعزیت ہو رہی ہے‘۔

جب فہمیدہ مرزا پہلی خاتون سپیکر منتخب ہوئیں تو پرویز الہیٰ اور دیگر نے انہیں مبارکباد دی۔ اس دوران مخدوم امین فہیم نے اپنی تقریر میں کہا کہ فہمیدہ مرزا کے سپیکر منتخب ہونے پر وہ بہت خوش ہیں اور آصف علی زرداری کو مبارکباد دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری یاروں کے یار ہیں اور جو وعدہ کرتے ہیں اُسے پورا کرتے ہیں اور وہ ان سے اب بھی ایسی توقع کرتے ہیں۔ جس پر ایک صحافی نے کہا کہ بہت دیر کردی مہربان آتے آتے۔