Tuesday, 18 March, 2008, 03:42 GMT 08:42 PST
احمد رضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ ٹو میں واقع زرداری ہاؤس کچھ مہینے پہلے تک اس امیر علاقے کے بہت سے مکینوں کے لیے بھی ایک غیرمعروف جگہ تھی لیکن اب یہ کسی بھی طرح ایوان صدر یا وزیر اعظم ہاؤس سے کم مقبول نہیں ہے۔ کیوں نہ ہو، آجکل وفاقی دارالحکومت میں یہ وہ جگہ ہے جہاں آنے والی حکومت اور ملک کے سیاسی مستقبل کے بارے میں اہم فیصلے ہورہے ہیں۔ لیکن بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے خطرے نے زرداری ہاؤس اور اسکے اردگرد کے منظر کو بڑی حد تک بدل دیا ہے۔
اب اگر آپ وہاں جائیں تو زرداری ہاؤس کو جانے والے تمام راستوں پر جگہ جگہ پولیس چوکیاں اور خاردار تاروں کے ناکے آپ کا استقبال کرتے ہیں اور وہاں مامور پولیس اہلکار اور پیپلز پارٹی کے رضاکار آپ کی شناخت اور جامہ تلاشی لینے کے بعد آگے جانے کی اجازت دیتے ہیں۔
میں جب اس پورے عمل سے گزرنے کے بعد زرداری ہاؤس پہنچا تو مجھے آصف علی زرداری کے سیکیورٹی ایڈوائزر رحمٰن ملک مل گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے حالات اتنے سنگین ہیں کہ سکیورٹی کے لیے غیرمعمولی اقدامات کرنا پڑے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حفاظتی انتظامات کی نگرانی ایس ایس پی پیر فرید جان سرہندی کرتے ہیں جنہیں پیپلز پارٹی کی درخواست پر حکومت نے یہ ذمہ داری سونپی ہے۔
رحمٰن ملک کے مطابق زرداری ہاؤس کے باہر حفاظتی انتظامات پولیس اور پارٹی کے رضاکار مل کر سنبھالتے ہیں جبکہ عمارت کے اندر صرف پارٹی کے رضاکار مامور ہوتے ہیں۔
سکیورٹی کے ان انتظامات کے باوجود زرداری ہاؤس پر ہر وقت سیاسی رہنماؤں کی آمدورفت جاری ہے اور ساتھ ہی ساتھ خبروں کے متلاشی صحافیوں اور ٹی وی کیمرہ مینوں کا بھی جھمگھٹا لگا رہتا ہے۔ایسے ہی ایک صحافی عیسی نقوی سے میری بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’آنے والی حکومت کے متعلق تمام اہم فیصلے زرداری ہاؤس میں ہو رہے ہیں یا یہاں سے گزر کر جاتے ہیں اس لیے ہماری مجبوری ہے کہ ہر وقت یہاں موجود رہیں اور چوکس بھی رہیں تاکہ ہر لمحہ بدلتی صورتحال کو کور کرسکیں۔‘
صحافتی مجبوریاں اپنی جگہ لیکن زرداری ہاؤس بہرحال خبروں کے ساتھ ساتھ کارکنوں اور عام لوگوں کی توقعات کا بھی مرکز بنا ہوا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ طاقت کے اس نئے مرکز کے مکین ان توقعات پر کیسے پورا اترتے ہیں۔