Tuesday, 18 March, 2008, 14:23 GMT 19:23 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اٹارنی جنرل ملک قیوم نے سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کی کارروائی نہیں روک سکتی۔
ملک قیوم نے کہا کہ پارلیمنٹ میں قراردار پیش کر کے معزول ججوں کی بحالی ایک خواہش تو ہوسکتی ہے لیکن اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ججوں کی بحالی کے حوالے سے پارلیمنٹ میں مجوزہ قرارداد رکوانے کے لیے حکم امتناعی جاری نہیں کرسکتی۔
ملک قیوم نے کہا کہ پارلینمٹ میں یہ قراردار منظور ہونے کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ میں لایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلینمٹ
کسی جج کو مقرر نہیں کرسکتی تو بحال کیسے کر سکتی ہے۔
اجلاس میں ریٹائرڈ ججوں کو پینشن کے حصول میں پیش آنے والی مشکلات کو دور کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی۔
واضح رہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ساٹھ ججوں کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ ان میں سے کسی نے بھی ریٹائرمنٹ کے کاغذات پر دستخط نہیں کیے۔
پاکستانی میڈیا میں سپریم کورٹ کی فل کورٹ کے اجلاس کے بارے میں خاصی کوریج دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس فل کورٹ کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ پارلینمٹ کی طرف سے معزول ججوں کی بحالی کے سلسلے میں مجوزہ قرارداد پیش ہونے سے پہلے سپریم کورٹ اس حوالے سے کوئی لائحہ عمل طے کرے گی۔
اجلاس میں جیل پٹیشنز کو جلد ازجلد نمٹانے کے لیے سپیشل بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پچیس نومبر سنہ دوہزار سات سے لیکر چودہ مارچ سنہ دوہزار آّٹھ تک تین ہزار تین سو پانچ نئے کیسز سپریم کورٹ میں درج کیے گئے۔ جبکہ اس عرصے کے دوران دو ہزار چھ سونوے مقدمات نمٹائے گئے۔ سپریم کورٹ میں اب بھی پندرہ ہزار سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں۔
اجلاس میں لوگوں کو انصاف کی فراہمی کے سلسلے میں مقدمات جلد از جلد نمٹانے کے حوالے سے سپریم کورٹ کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں جوڈیشل الاؤنسز میں اضافے کا معاملہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے آئندہ اجلاس تک مؤخر کردیا۔