Monday, 17 March, 2008, 18:02 GMT 23:02 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان کے چاروں صوبوں میں جیتنے والی پارٹیوں نے اپنے اپنے طور پر مخلوط حکومتوں کا ابتدائی ڈھانچہ تیار کرلیا ہے اب انہیں صوبائی اسمبلیوں کے اجلاسوں کا انتظار ہے لیکن پارلیمانی روایات کے برعکس اس بار صوبوں کی اسمبلیوں کے پہلے اجلاس کی تاریخ صوبے کا گورنر نہیں بلکہ صدر مملکت طے کریں گے۔
سندھ کے نگران وزیر قانون سید غلام نبی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ گورنرسندھ وزیراعلیٰ کے مشورے پر اسمبلی اجلاس بلانے کا پابند تو ہے لیکن اس بار پہلے اجلاس کی تاریخ صدرپرویز مشرف نے طے کرنا ہے۔
یہ نیا قانون صدر پرویز مشرف نے پندرہ دسمبر سنہ دوہزار سات کو اس وقت جاری کیا تھا جب ایمرجنسی اٹھائی گئی تھی۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس قانون کا فائدہ اٹھا کراسمبلیوں کے اجلاس میں غیر معمولی تاخیر کی جاسکتی ہے تاکہ صدر مشرف حامی طاقتیں سیاسی صورتحال تبدیل کرنے کی کوشش کرسکیں۔
ایسی قوتوں کا پہلا نشانہ صوبہ سندھ ہوسکتا ہے جہاں وزارت عظمٰی پر مخدوم امین فہیم اور آصف علی زرداری میں تنازعے کا اثر صوبائی حکومت سازی کو متاثر کرسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی اگرچہ ایسے کسی تنازعے کی تردید کرتی ہے لیکن پارٹی کے بعض اراکین منظر عام پر آئے بغیر ان اختلافات کو اہم قرار دیتے ہیں۔
ایسے ہی ایک لیڈر نے پیپلز پارٹی سندھ کے پارلیمانی اجلاس میں تیس کے قریب اراکین کی عدم شرکت کو معنی خیز قرار دیا ہے۔
![]() |
|
| سندھ اسمبلی کی عمارت رونقوں اور ہنگامہ آرائیوں کی منتظر |
موجودہ سیاسی منظر نامے میں ایسا ہونا بظاہر مشکل نظر آ رہا ہے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ وزارت عظمٰی کے لیے مخدوم امین فہیم کو نظر انداز کرکے کسی دوسرے صوبے سے امیداور نامزد کرنے سے پیپلز پارٹی کے بعض حلقوں میں تحفظات پیدا ہوسکتے ہیں۔
مخدوم امین فہیم کو آصف زداری کے وزیراعظم بننے پر ان کے بقول کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کےسوا کسی دوسری شخیصت کی نامزدگی پارٹی میں پہلے جاری بحث کو عملی شکل دیدے گی۔
پیپلز پارٹی ایسی ہی کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے پہلےیہ مطالبہ کرتی رہی کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس ایک ساتھ بلائے جائیں تاکہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی نامزدگی ساتھ ساتھ ہوجائے اور پارٹی کے اندر اختلاف کو ابھرنے کا وقت نہ مل سکے۔
کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ارمان صابر کاکہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی یہ خواہش پوری نہیں ہوسکی تھی۔ اب بھی پیپلز پارٹی سندھ
کے پارلیمانی لیڈر پیر مظہر نے بلاتاخیر صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے لیکن اس کا اختیار بہرحال صدر نے نئے حکم
نامے کےتحت اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔
![]() |
|
| ملک کی واحد اسمبلی جس میں آنے والوں کو اجلاس بلائے جانے کی کوئی جلدی نہیں |
دو درجن کے قریب آزاد امیدوار مسلم لیگ نون میں شامل ہوچکے ہیں اور وہ بظاہر اپنے لیے کوئی خطرہ محسوس نہیں کر رہی لیکن یہ پاکستان کا وہ صوبہ ہے جہاں دفاداریاں سب سے زیادہ تیزی سے تبدیل کرنے کی روایت موجود ہے۔
اسی لیے مسلم لیگ نون کا بھی مطالبہ ہے کہ صوبائی اسمبلی کا اجلاس جلد بلایا جائے۔ یہی مطالبہ صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی اور اس کی حلیف پیپلز پارٹی کا بھی ہے البتہ وہ نسبتاً پر اعتماد ہیں۔ ان کے باہنی معاملات میں طے ہیں جن کے تحت وزارت اعلیٰ اے این پی کو ملے گی جب کہ پیپلز پارٹی نو وزارتیں لے گی۔
بلوچستان وہ واحد صوبہ ہے جس میں جیتنے والی پارٹیوں کو حکومت بنانے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور اجلاس بلانے میں اگر کوئی تاخیر بھی ہوئی تو اس کا نقصان بظاہر مشرف حامی سیاسی قوتوں کو ہو گا۔
انتخابی نتائج آنے سے لے کر اب تک جوڑ توڑ کی جو سیاست ہوئی اس کے نتیجے میں مسلم لیگ قاف کی اکثریت اب اقلیت میں تبدیل ہوچکی ہے۔ مسلم لیگ کا فاروڈ بلاک اصل مسلم لیگ قاف سے عددی لحاظ سے دوگنا سے بھی بڑا ہے اور اس نے پیپلز پارٹی کے وزارت اعلیٰ کے امیدوار اسلم رئیسانی کی حمایت کا اعلان بھی کر رکھا ہے لیکن خود انہیں کوئی جلدی نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ تاخیر پر کوئی تشویش نہیں ہے اور صدر جب چاہیں اجلاس بلالیں۔
آئینی امور کےماہر جسٹس ناصر اسلم زاہد کاکہنا ہے کہ صدر کے اس حکم نامے کی کوئی آئینی حثیت نہیں ہے جس کے تحت انہوں نے کچھ اختیارت
سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔
|
صدر کے حکم نامے کاانتظار
|
انہوں نے کہا کہ جب مرکز میں نئی حکومت معرض وجود میں آجائے گی تو وہ تین نومبر کے بعد کے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
سیاسی اور آئینی تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ مرکز میں نئی حکومت کی تشکیل میں ابھی کچھ وقت لگے گا اور تب تک صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس کے لیے صدرمملکت کے حکم نامے کاانتظار کرنا بظاہر سیاسی جماعتوں کی مجبوری ہے۔