Monday, 17 March, 2008, 12:32 GMT 17:32 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
آج ڈیرہ بگٹی میں پھیلاوگ کے علاقے میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایف سی کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ اہلکار بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کا کام کر رہے تھے اور ایک سرنگ پر پاؤں پڑ جانے سے دھماکے کے بعد دونوں اہلکاروں کی ہلاکت واقع ہوئی۔
اس کے علاوہ بلوچستان کے شہرنوشکی میں بلوچ نیشنل فرنٹ کی جانب سے سترہ مارچ کے حوالے سے ریلی نکالی گئی۔ سترہ مارچ دو ہزار پانچ کو فرنٹیئر کور اور مسلح بگٹی قبائلیوں کے مابین جھڑپیں ہوئی تھیں۔جھڑپوں کے بعد نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ایف سی کی فائرنگ سے اس وقت اسی سے زیادہ عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
نوشکی میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں مظاہرین نے سخت نعرہ بازی کی ہے اور بعد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے اور تمام بلوچ قوم پرست جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔
اس ریلی کی قیادت بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنما غلام محمد بلوچ نے کی ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس ریلی کا مقصد سترہ مارچ کے شہداء
کو یاد کرنا ہے۔
بلوچ نیشنل فرنٹ آٹھ تنظیموں پر مشتمل جس میں بی این ایم کے علاوہ جمہوری وطن پارٹی براہمدغ گروپ، بلوچ وطن پارٹی ،بلوچ بار ایسوسی
ایشن بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد اور دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔بلوچ بار ایسوسی ایشن کے صدر صادق رئیسانی نے کہا ہے کہ بی این
ایف کا مقصد بلوچستان کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔
سترہ مارچ دو ہزار پانچ کو ڈیرہ بگٹی میں فرنٹیئر کور اور مسلح بگٹی قبائلیوں کے مابین جھڑپیں ہوئی تھیں اور دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر حملے کے الزامات عائد کیے تھے۔
ان جھڑپوں میں مبینہ طور پر اسی کے لگ بھگ لوگ ہلاک گئے تھے جن میں بڑی تعداد میں ہندو شامل تھے۔ ایسی اطلاعات بھی تھیں کہ ایف سی پانچ اہلکار ہلاک اور بیس کے لگ بھگ زخمی ہوگئے تھے لیکن اس کی تصدیق نہیں کی جا رہی تھی۔
اس واقعہ کے بعد مسلم لیگ قائد اعظم کے رہنما چوہدری شجاعت حسین اور مشاہد حسین نے نواب اکبر بگٹی سے مذاکرات شروع کیے تھے اور دونوں جانب سے مورچے خالی کر دیے گئے تھے جس کے بعد صورتحال معمول پر آ گئی تھی۔ لیکن سترہ دسمبر کو اچانک فرنٹیئر کور نے پھر سے مورچوں پر قبضہ کرکے مبینہ طور پر کوہلو اور بعد میں ڈیرہ بگٹی میں فوجی کارروائی شروع کر دی تھی اور تین سال گزرنے کے بعد بھی اب تک ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے علاقوں سے جھڑپوں اور حملوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔