Monday, 17 March, 2008, 15:35 GMT 20:35 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین نے سرحد اسمبلی کے سپیکر کے لیے کرامت اللہ چغرمٹی اور ڈپٹی سپیکر کے لیےخوشدل خان کو نامزد کیا ہے۔
انیس سو نوے سے عام انتخابات میں چار مرتبہ مسلسل شکست سے دوچار ہونے کے بعد کرامت اللہ چغرمٹی آخر کار اٹھارہ فروری کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پی ایف سات سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔
کرامت اللہ انیس سو ترپن میں پشاور سے تقریباً چودہ کلومیٹر دور چغرمٹی گاؤں میں پیدا ہوئے۔انہوں نے پشاور کے ایڈورڈز کالج سے بی اے کرنے کے بعد سندھ مسلم لاء کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور سیاسی زندگی کا آغاز انیس سو اسی میں قبائلی تنازعات کو حل کرنے کے لیے قائم ہونے والے خلیل، مہمند، داودزئی اصلاحی جرگہ سے کیا جبکہ انیس سو تراسی اور ستاسی میں پشاور سے بلدیاتی انتخابات میں ڈسٹرکٹ کونسل کے دو مرتبہ رکن منتخب ہوئے۔
انہوں نے انیس سو نوے اور ترانوے میں آزاد حیثیت سے عام انتخابات میں حصہ لیا تاہم دونوں مرتبہ ناکام ہوئے جبکہ انیس سو چھیانوے میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنےکے بعد انہیں صوبائی اسمبلی کے نشست کے لیے پارٹی ٹکٹ دیا گیا لیکن اس پر بھی انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔
صوبہ سرحد کے اسمبلی کے نامزد ڈپٹی سپیکر خوشدل خان کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے ہےانہوں نے اپنی سیاسی زندگی کاآغاز انیس سو اکیاسی میں پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل کے صدر منتخب ہونے سے کیا۔خوشدل خان نے انیس سو تراسی میں گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خاں سے قانون کی تعلیم حاصل کی ہے۔
خوشدل خان کوضیاؤالحق کی حکومت کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریک میں حصہ لینے کے دوران ایک سال تک جیل بھی کاٹنی پڑی۔ انہیں دوہزار چھ میں صوبہ سرحد کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل تعینات کیا گیا مگر انہوں نے عدالتی بحران کے دوران احتجاجاً اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا۔
اٹھارہ فروری کے انتخابات میں پی ایف دس سے عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے الیکشن میں پہلی مرتبہ حصہ لیتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔