Monday, 17 March, 2008, 12:12 GMT 17:12 PST
ہارون رشید
بی بی سی، اسلام آباد
نومنتخب قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ایوان کے اندر تو جو کارروائیوں ہوئیں سو ہوئیں لیکن باہر بھی کافی میلہ سجا رہا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اگرچہ صبح گیارہ بجے ہونا تھا تاہم پارلمینٹ ہاؤس کے باہر گہما گہمی دو گھنٹے قبل صبح نو بجے سے ہی شروع ہوگئی تھی۔ ذرائع ابلاغ کے سینکڑوں نمائندوں کا ایک اجتماع اس وقت سے سج گیا تھا۔
جب اراکین کی آمد کا آغاز ہوا تو کیمرے بھی رول ہوئے اور بیانات بھی شروع ہوئے۔ جتنا اہم اور وسائل والا رکن اتنی ہی لمبی اور مہنگی اس کی گاڑی۔ ان گاڑیوں کو دیکھ کر ایسا محسوس نہیں ہوتا تھا کہ یہ ایوان کسی غریب ترقی پذیر ملک کا ہوگا۔
پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم ابتدا میں آنے والے اراکین میں شامل تھے۔ کسی بھی رکن کی جانب لپکنے والے صحافیوں کی تعداد سے اس رکن کی اہمیت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا تھا۔ ان اراکین کو ہر صحافی ٹٹولتا رہا کہ آیا اسے قوم کو درپیش مسائل کی آگہی ہے یا نہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی جنہوں نے سینیٹ میں اپنی نشست چھوڑ کر قومی اسمبلی میں بیٹھنے کو ترجیح دی کا کہنا تھا کہ امن عامہ کی بہتری سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر بقول ان کے اقتصادی ترقی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر جماعتی سوچ سے بالا ہوکر اراکین نے اس مسئلے کے حل کے لیے کچھ نہ کیا اور یہ نظام کامیاب نہ ہوا تو اس کے نتائج بڑے بھیانک ہوں گے۔
میڈیا اور صحافیوں کا ایوان کے باہر میلہ حلف برداری کے بعد بھی جاری رہا۔ نئے ایوان میں نئے چہروں کی تعداد پرانے چہروں سے زیادہ ہے۔ تقریباً ساٹھ فیصد اراکین یعنی ایک سو بانوے پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے ہیں۔ خود وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی دو نشستوں سے منتخب ہونے والے دونوں اراکین نئے ہیں۔
وزراء اعظم کے عہدے کے لیے پارلیمان کے اندر تو جو کچھ ہوا ہوا باہر بھی پارلیمنٹ ہاؤس کے جنگلے سے مخدوم امین فہیم کے حامیوں نے ان کے وزارت عظمٰی کے امیدوار کے طور پر حمایت میں نعروں سے درج بینرز آویزاں تھے۔
اس طرح ان کی مخالفت میں بھی بینر لگے تھے مخدوم امین فہیم کے خلاف ایک بینر پر’مخدوم رہنے اور لغاری بننے سے انکار’ جیسی عبارت بھی درج تھی۔ اس پر پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ یہ ایجنسیوں کی سازش ہوسکتی ہے اور وہ اس کی تحقیقات کر رہے ہیں تاہم فل الحال انہوں نے اسے اتارنے کا حکم دیا ہے۔
سکیورٹی کے بھی غیرمعمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس حکام کے مطابق گیارہ سو پولیس اہلکار اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ تمام عمل پرامن طریقے سے مکمل ہو تعینات کیے گئے تھے۔ تاہم اراکین اور میڈیا سے زیادہ تعداد اراکین کے محافظوں اور مہمانوں کی تھی۔