Saturday, 15 March, 2008, 01:18 GMT 06:18 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان بار کونسل کے چھ ارکان نے اعلان مری کے بعد وکلاء احتجاج پر نظرثانی کے لیے کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے جو سولہ مارچ کو اسلام آباد میں ہوگا۔
پاکستان بارکونسل کے وائس چئرمین عزیز اکبر بیگ نے یہ اجلاس پیپلز پارٹی کے سینیٹرز سردار لطیف احمد خان کھوسہ، فاروق ایچ نائیک، پیپلز پارٹی کے سابق رکن پنجاب اسمبلی راجہ شفقت عباسی، پیپلز پارٹی کے رہنما پرویز عنایت ملک کے علاوہ یاسین آزاد اور یوسف لغاری کی درخواست پر طلب کیا ہے۔
پاکستان بار کونسل پورے ملک کے وکلا کی نمائندہ تنظیم ہے اور اس کے پاکستان بھر سے بائیس منتخب ارکان ہیں۔
عزیز اکبر بیگ کے مطابق بارکونسل کے پانچ ارکان کی درخواست پر کسی وقت بھی کسی معاملے پر غور کرنے کے لیے اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان بارکونسل کے وائس چئرمین عزیز اکبر بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ بارکونسل کے چھ ارکان نے دو نکاتی ایجنڈے پر اجلاس طلب
کرنے کے لیے درخواست دی۔
![]() |
|
| بار کونسل کا اجلاس سولہ مارچ کو اسلام آباد میں ہوگا |
اجلاس میں ارکان ایجنڈے میں شامل اس نکتہ پر غور کریں گے کہ آیا پاکستان بارکونسل کے علاوہ کسی بار ایسوسی ایشن کو ملک گیر سطح پر وکلاء کو احتجاج کی کال دینے کا اختیار ہے یا نہیں۔
عزیز اکبر بیگ کا کہنا ہے کہ ایجنڈے میں شامل نکات پر فیصلہ اکثریتی رائے سے کیا جائے گا۔
دوسری جانب سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن نے ججوں کی بحالی کے معاملہ پر سولہ مارچ کو اسلام آباد میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا ہے جس میں سابق جج اور ممتاز قانون دان شرکت کریں گے۔
خیال رہے کہ سردار لطیف کھوسہ نے جو پیپلز پارٹی کے وکلاء ونگ پیپلز لائیز فورم پاکستان کے چئرمین اور اپنی قیادت میں قائم وکلاء کےایک گروپ کے سربراہ ہیں، اعتزاز احسن کی طرف سے بلیک فلیگ ویک منانے کے اعلان پر نکتہ چینی کی تھی ۔ ان کے بقول اعتزاز احسن اسلامی مہینے ربیع الاول میں احتجاج کرنے کے بعد اسلام سے خارج ہوگئے ہیں۔کھوسہ گروپ کے ایک اہم رکن اور لاہور ہائی کورٹ بار کے سابق صدر احسن بھون نے اپنی صدارت کے دوران ہی لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے ۔