Friday, 14 March, 2008, 17:54 GMT 22:54 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیر پرسن آصف زرداری پر اب پاکستان میں بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں ہے۔ تاہم ابھی منشیات کا ایک اور قتل کے تین مقدمات ابھی باقی ہیں۔
گزشتہ برس اکتوبر میں قومی مفاہمتی آرڈیننس کے اجراء سے اگرچہ جماعتی بنیاد پر سب سے زیادہ فائدہ متحدہ قومی موومنٹ کا بتایا جاتا ہے لیکن پیپلز پارٹی کے شریک چئرپرسن آصف علی زرداری شاید وہ واحد سیاستدان ہیں جن کی مشکلات میں اس قانون کے سبب سب سے زیادہ کمی آئی ہے۔
صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے درمیان مفاہمت کے نتیجے میں سامنے آنے والے اس نئے قانون کے آنے سے جن لوگوں کو فائدہ ہوا ان پر بدعنوانی کے اکا دکا مقدمات تھے لیکن آصف علی زرداری وہ اہم سیاستدان ہیں جن کو انیس سو ستانوے کے بعد صرف بدعنوانی کے سات مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔
ان میں وزیراعظم ہاؤس میں پولوگراؤنڈ کی تعمیر، ٹریکٹروں کی خریداری، اثاثہ جات، ایس جی ایس، اے آر وائی گولڈ اور بی ایم ڈبلیو کے حوالے سے مقدمات ان کے خلاف دائر ہوئے اور ان میں سے کئی مقدمات کی وجہ سے انہیں قید بھی کاٹنی پڑی۔
لیکن وزیراعظم ہاؤس جیسا مقدمہ جس میں تمام ثبوت ان کی مخالف حکومتیں باآسانی حاصل کرسکتی تھی بھی ثابت نہ ہو پایا اور معاملہ
لٹکا رہا۔ ایسے میں مبینہ سیاسی مخالفت کی بنیاد پر قائم یہ مقدمات برسوں تک آصف زرداری کے سر پر تلوار کی طرح لٹکتے رہے۔
![]() |
|
| مبینہ سیاسی مخالفت کی بنیاد پر قائم مقدمات برسوں تک آصف زرداری کے سر پر تلوار کی طرح لٹکتے رہے |
اس کے بعد احتساب عدالتوں نے غیرمعمولی تیزی سے آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے انہیں ایک ایک کر کے باہر پھینکنا شروع کر دیا۔
حکومت کی اس یقین دہانی کے بعد کہ بیرون ملک بدعنوانی کے کیسز بھی جلد واپس لے لیے جائیں گے۔ آج زرداری صاحب پر سرکاری کھاتوں میں پاکستان کے اندر بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں ہے۔ تاہم ایک مقدمہ منشیات کا اور تین مقدمات قتل کے ابھی باقی ہیں۔ ان کا فیصلہ کب ہوگا کچھ کہنا مشکل ہے۔