http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 13 March, 2008, 18:13 GMT 23:13 PST

خواجہ رئیس الدین
مظفرآباد

نوجوان ہلاک پولیس افسرگرفتار

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک نوجوان کی مبینہ طور پر پولیس تشدد میں ہلاکت کے بعد اس کے رشتہ داروں کے سخت احتجاج پر پولیس افسر کوحراست میں لیا گیا ہے۔

کشمیر کے اس علاقے کے ضلع سدھنوتی میں مبینہ طور پر پولیس حراست میں تشدد کا نشانہ بن کر ہلاک ہونے والے نوجوان کی میت جب اس کے آبائی قصبے پہنچی تو مقامی لوگوں اور رشتہ داروں نے شدید احتجاج کیا اورپولیس اور کشمیرکے اس علاقے کی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

ہلاک ہونے والے مقامی نوجوان امجد حسین کے رشتہ داروں نے الزام عاید کیا کہ اس کی ہلاکت پولیس کی حراست میں تشدد کے باعث ہوئی ہے۔

ہلاک ہونے والے نوجوان کے عزیز نے اس علاقے کے پولیس سٹیشن میں درخواست دی جس میں الزام عائد کیا کہ پولیس نے ان کے عزیز کو دوران حراست تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے ہی اس کی ہلاکت ہوئی ہے ۔

پولیس نے ہلاک ہونے والے نوجوان کے عزیز کے الزام پر تفتیشی افسر کے خلاف دفعہ تین سو دو کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے اسے گرفتار کرلیا ہے۔

پولیس سربراہ چوہدری محمد عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے آٹھ مارچ سن دو ہزار آٹھ کو مقامی نوجوان امجد حسین کو چوری کے شبے میں گرفتار کیا ااورعدالت سے سات روز کا ریمانڈ حاصل کیا۔

انہوں نے کہا پولیس کی حراست کے دوران دو دن قبل یعنی منگل گیارہ مارچ سن دو ہزار آٹھ کو اس کی حالت اچانک خراب ہوئی اور اسے مقامی ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے اس کو نفسیاتی مریض قرار دیتے ہوئے ملحقہ ضلع راولا کوٹ کے ملٹری ہسپتال میں لے جانے کا مشورہ دیا۔

پولیس آفیسر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کے مشورے پر نوجوان کو گذشتہ روز راولاکوٹ ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر وہ چند گھنٹوں بعد ہلاک ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے نوجوان کے ورثاء نے پولیس پر دوران تفتیش تشدد کا الزام لگایا ہے اوراس الزام پر تفتیشی افسر کے خلاف دفعہ تین سو دو کےتحت مقدمہ درج کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں اورہلاک ہونے والے نوجوان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے۔