Wednesday, 12 March, 2008, 18:18 GMT 23:18 PST
کراچی میں پریس کلب کے سامنے مہاجر قومی موومنٹ کے قائد آفاق احمد اور معزول ججوں کی بحالی کے لیے جمع ہونے والی مہاجر قومی موومنٹ کی خواتین پر مردوں اور خواتین پر مشتمل ایک گروہ نے حملہ کر دیا اور مظاہرین خواتین کو پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں تشدد کا نشانہ بنایا اورگھسیٹا۔
بعد میں متحدہ قومی موومنٹ اور متحدہ کے سربراہ کے حق میں نعرے لگانے والے حملہ آوروں نے واقعے کی تصاویر اور ویڈیو بنانے والے کئی فوٹوگرافروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، ان کے کیمرے توڑ ڈالے اور کیمروں سے فلمیں نکال لیں۔
مظاہرے کے لیے جمع ہونے والی خواتین نے آفاق احمد کی رہائی اور معزول ججوں کی بحالی پر مشتمل نعروں کے جو بینر اٹھا رکھے تھے
ان پر مہاجر قومی موومنٹ لکھا ہوا تھا۔
![]() |
|
| حملہ آوروں میں خواتین بھی شامل تھیں |
لگ بھگ بیس منٹ تک جاری رہنے والی اس کارروائی کے دوران حملہ آوروں نے راہ گیر مردوں اور عورتوں کو روک روک کر پوچھ گچھ بھی کی اور کئی ایک کو مہاجر قومی موومنٹ کے مظاہرین کا ساتھی سمجھ کر مارا پیٹا۔
وقوعہ کے بعد پولیس مظاہرے کے لیے آنے والوں کو موبائلوں میں بٹھا کر لے گئی اور اس کہنا ہے کہ ’بگڑتی ہوئی صورتحال کو قابو میں کر لیا گیا ہے‘۔
ایس پی کلفٹن آصف اعجاز نے بتایا کہ جائے وقوع سے کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا۔