http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 11 March, 2008, 15:32 GMT 20:32 PST

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

آسٹریلوی فیصلہ مایوس کن

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کو ملتوی کرنے کے فیصلے پر پاکستانی کرکٹ حلقوں نے مایوسی ظاہر کی ہے اور خیال ظاہر کیا ہے کہ اگر اسی طرح دورے ملتوی یا منسوخ ہوتے رہے تو پاکستانی کرکٹ کے لئے یہ بڑا دھچکہ ہوگا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں امن و امان کی خراب صورتحال کی بنیاد پر آسٹریلیا نے اس ماہ کے آخر میں شروع ہونے والا دورۂ پاکستان ملتوی کردیا ہے۔ اس بارے میں کرکٹ آسٹریلیا کے جنرل منیجر پبلک افیئرز پیٹرینگ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیصلہ ان معلومات اور ہدایات کی بنیاد پر کیا گیا ہے جو انہیں سکیورٹی کے بارے میں مختلف ذرائع سے ملی ہیں ان میں آسٹریلوی حکومت بھی شامل ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آسٹریلوی کوچ جیف لاسن کا کہنا ہے کہ کرکٹ آسٹریلیا یہ دورہ ملتوی کرنے میں بالکل حق بجانب نہیں کیونکہ پاکستان میں کرکٹ دہشت گردی کا ہدف نہیں ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو رمیز راجہ کے خیال میں اگر اسی طرح ٹیمیں پاکستان آنے سے کتراتی رہیں تو یہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستانی کرکٹ کے لئے بڑا دھچکہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اسی ماہ اپنے نشریاتی حقوق فروخت کرنے والا ہے لیکن ٹیموں کے یہاں نہ آنے کے سبب کوئی بھی براڈکاسٹر اچھی پیشکش کے ساتھ سامنے نہیں آئے گا۔
سابق کپتان وقار یونس کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی دورہ ملتوی ہونے کا براہ راست آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی پر پڑ ے گا۔ انہوں نے کہا کہ حالات اچھے نہیں ہیں اس صورت میں نیوٹرل سینٹرز پر کھیلنے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ عارف عباسی کے خیال میں یہ صورتحال آئی سی سی کی کمزوری ظاہر کرتی ہے کیونکہ آج کل کرکٹ پروگرامز آئی سی سی کے تحت طے ہوتے ہیں دو بورڈز طے نہیں کرتے۔
آئی سی سی کا یہ کہنا ہے کہ آسٹریلوی دورہ ملتوی کرنے کا فیصلہ پاکستان اور آسٹریلیا نے متفقہ طور پر کیا ہے لہذا آئی سی سی قواعدوضوابط کے تحت اس میں مداخلت نہیں کرسکتی۔