Monday, 10 March, 2008, 14:28 GMT 19:28 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ،اسلام آباد
پیپلز پارٹی نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ وزارت عظٰمی کے معاملے پر جماعت کے اندر کوئی تقسیم پائی جاتی ہے یا پھر اس میں ’بلاضرورت‘ تاخیر کی جا رہی ہے۔ تاہم پارٹی کے سینئر رہنما اور وزارت عظمٰی کے امیدوار مخدوم امین فہیم کے ایک تازہ بیان نے اندرونی اختلافات کافی واضح کر دیے ہیں۔
جماعت کی سیکرٹری اطلاعات شیری رحمان نے پیر کو زرداری ہاوس میں صحافیوں سےبات کرتے ہوئے کسی اختلاف کے تاثر کو رد کیا اور کہا کہ پارٹی اس بابت مشاورت کے عمل میں مصروف ہے۔
’ہماری پارٹی اس معاملے پر کافی متحرک ہے اور اتنی بڑی تعداد میں نئے اراکین اسمبلی سامنے آئے ہیں ان کی رائے لینا بھی ضروری ہے۔ ہر کوئی جماعتی قیادت کے پیچھے متحد ہے‘۔
پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ وزارت عظمٰی کے امیدوار کا اعلان صدر پرویز مشرف کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیے جانے کے بعد کیا جائے گا۔
کافی تحمل سے کام لینے والے مخدوم امین فہیم کو پارٹی کے شریک چئرپرسن آصف علی زرداری کی جانب سے بھوربن میں ان کے خلاف ایک مختصر سے جملے نے بپھرا دیا۔
زرداری کا کہنا تھا کہ مخدوم امین فہیم کو دعوت دی گئی تھی لیکن وہ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے شریک نہیں ہوسکے۔
|
|
تاہم انہوں نے واضع طور پرغصے اور بے زاری سے وزارت عظمٰی کو ایک ’بلا‘ قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نامزد نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنے ردعمل کا فیصلہ مشاورت کے بعد کریں گے۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ مری اجلاس میں مخدوم صاحب کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاہم ’مس کمیونیکیش‘ کی وجہ سے اطلاع ان تک نہیں پہنچ سکی تھی۔
ادھر قومی اسمبلی میں صوبہ پنجاب کے بہاولپور اور ڈی جی خان اضلاع سے نو منتخب پیپلز پارٹی کےاراکین نے اسلام آباد میں شریک چئرپرسن
سے وزارت عظمٰی کے امیدوار اور نئی حکومت کی ترجیحات سے متعلق صلاح مشورے جاری رکھے۔
|
|
شیری رحمان کی وضاحت پر مخدوم امین فہیم کا کہنا تھا کہ وہ اطلاعات کی سیکرٹری ہیں پہلے پوری معلومات اکٹھی کریں اور پھر بات کریں۔ ’انہیں چاہیے کہ وہ الیکشن کمیشن اور پارٹی دفتر سے معلوم کرلیں کہ میں پارٹی کا صدر ہوں، کوئی مہمان اداکار نہیں ہوں‘۔
اس تازہ ردِعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ مخدوم امین فہیم کی ناراضگی بدستور قائم ہے جسے ذرائع ابلاغ بھی بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ یہ ناراضگی پیپلز پارٹی کے لیے سیاسی مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے بقول اس ناراضگی کے کسی اور شکل میں تبدیل ہونے سے قبل بہتر ہے کہ پیپلز پارٹی کےرہنما جلد از جلد آپس میں مل بیٹھ کر کدورتیں دور کرلیں۔