Monday, 10 March, 2008, 14:57 GMT 19:57 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
ہندوستانی حکام نے ایک پاکستانی شہری خالد محمود کی لاش واہگہ باڈر پر پاکستان کے حوالے کردی ہے۔
خالد محمود تین برس پہلے کرکٹ میچ کے سلسلے میں ہندوستان گئے تھے جہاں بعد میں انہیں گرفتار کر لیاگیا۔ ان کے ورثا کاکہنا ہے کہ ان پر مبینہ طور پر تشدد کیا گیا جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستانی پولیس کے عملے نے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی ہے جس کے بعد اسے ورثا کے حوالے کردیا جائے گا۔
پیر کی سہ پہر خالد محمود کی لاش ایک ایمبولینس میں واہگہ باڈر تک لائی گئی اور نومین لینڈ پر تابوت پاکستانی فلاحی ادارے ایدھی کی ایمبولینس میں منتقل کر دیاگیا۔ جہاں سے اسے سرکاری مردہ خانے منتقل کیاگیا۔
متوفی لاہور کے نواحی علاقے باٹاپورکے ایک گاؤں کا رہائشی تھے اور مقامی نجی ٹرانسپورٹ ادارے میں بطور کنڈیکٹر ملازم تھے۔
سنہ دوہزار پانچ میں وہ کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے انڈیا کے شہر موہالی گئے تھے لیکن واپس نہیں آئے۔ ان کے ورثا کا کہنا ہے کہ کوئی ایک برس کے بعد ان کا ایک خط موصول ہوا جو انہوں نے جیل سے لکھا تھا جس سے علم ہوا کہ وہ ہندوستان میں گرفتار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خالد محمود کا پاسپورٹ گم ہوگیا تھا اور وہ پاکستانی ہائی کمیشن اطلاع کرنے کے لیے جا رہے تھے جب انہیں گرفتار کر لیاگیا۔ متوفی کے بھائی عبیداللہ کے بقول انہیں پاکستانی جاسوس سمجھ کر تفتیش کی جاتی رہی۔
واہگہ باڈر پر لاش لینے کے لیے آنے والے متوفی کے بھائی عبید اللہ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ متوفی نے اپنے خط میں لکھا تھا
کہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ خالد محمود کی والدہ، بہن اور بھائی محمد زکریا نے انڈیا جاکر جیل میں اس سے ملاقات کی۔
|
وہ کرکٹ کے جنونی تھے
|
خالد محمود کی رہائی کے لیے انڈیا کی ایک عدالت میں اپیل دائر کی گئی۔اس کے اہلِِ خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے دورۂ ہندوستان کے دوران انہیں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے تنگ کیا اور اس قدر حراساں کیا کہ وہ صرف دس روز میں انڈیا چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔
متوفی کے بھائی نے بتایاکہ ان کی والدہ کریمن بی بی نے انہیں (خالد محمود) کو ہندوستان جانے سے منع کیا تھا لیکن وہ کرکٹ کے جنونی تھے اور باز نہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ چار مارچ کو انہیں اطلاع ملی کہ خالد محمود ہلاک ہوچکے ہیں حالانکہ ان کے بقول بارہ فروری کو ان کی ہلاکت ہوچکی تھی۔
پاکستان نے گذشتہ ہفتے ہی ایک شخص کشمیرسنگھ کو پاکستان کی جیل سے رہا کرنے کے بعد انڈیا بھجوایا تھا۔ اسے جاسوسی کے الزام میں
پاکستانی عدالت نے موت کی سزا دی تھی جس پر پینتیس برس تک عمل درآمد نہیں ہوسکا تھا۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے وزیر انصار برنی کشمیر سنگھ کو رہا کرانے کے بعد اپنی گاڑی میں واہگہ باڈر تک چھوڑنے گئے تھے۔
خالد محمود کے بھائی عبید اللہ نے کہا کہ ٹی وی پر کشمیر سنگھ کی رہائی کا عمل دیکھنے کے صرف ایک گھنٹے کےبعد ہی ہندوستان سے آنے
والی ایک ٹیلی فون کال کے ذریعے انہیں خالد محمود کی موت کی اطلاع دی گئی۔
![]() |
|
| خالد محمود کے بھائی اشکبار ہیں |
انہوں نے پاکستانی حکومت کے رویّے کو بھی تنقید کانشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا میں پاکستانی ہائی کمیشن کا رویہ افسوسناک تھا اور انہوں نے خالد محمود کی رہائی کے لیے کوئی مدد نہیں کی حالانکہ اس کا معاملہ پاسپورٹ کی گمشدگی تھا جو کسی کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے۔