Sunday, 09 March, 2008, 14:24 GMT 19:24 PST
بیورو رپورٹ
اسلام آباد
پاکستانی جوہری پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہسپتال سے خارج کئے جانے کے بعد اتوار کوگھر منتقل کردیاگیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی صحت کافی حد تک بہتر ہونے کے بعد گھر منتقل کیا گیا جبکہ انہیں ضرورت کے مطابق مزید علاج گھر پر ہی فراہم کیاجائے گا۔
ڈاکٹر اے کیو خان کو بدھ کے روز بخار اور کم فشار خون کے سبب ہسپتال داخل کیا گیا تھا جہاں انہیں آنتوں کے انفیکشن اوربخار ہونے کا اعلان کیا گیا۔ ماہرین امراض قلب نے ان کے دل کا معائنہ بھی کیا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا علاج ان کی پسند کے ڈاکٹروں کا ایک پینل کر رہاہے۔
پاکستانی ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر خان کے وکیل اکرام چوہدری نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے موکل کو نئی حکومت بننے سے پہلے ہی قتل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اگر ڈاکٹر قدیر کو کچھ ہوا تو وہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سمیت تمام حکومتی شخصیات کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروائیں گے جو ان کی سکیورٹی پر معمور تھیں۔
اس ضمن میں جب بی بی سی نے پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزارت داخلہ سے رابطہ کریں۔
نگراں وزیر داخلہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مذکورہ وکیل کا بیان اس قابل نہیں ہے کہ اس کے جواب میں وزارت داخلہ کوئی بیان جاری کرے۔
فوج کے تعلقات عامہ کے شعبہ سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر خان نے کمزوری کی شکایت کی تھی جس پر انہیں فوری طبی امداد دی گئی۔ ان کے معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔ فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ ڈاکٹر خان کی صحت کے بارے میں عوام کو مطلع کیا جاتا رہے گا۔
واضح رہے کہ اپنے گھر میں نظر بند ڈاکٹر عبدالقدیر کو بدھ کو صحت کی خرابی کے باعث کے آر ایل ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔