Saturday, 08 March, 2008, 17:54 GMT 22:54 PST
احمد نور
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، لاہور
لاپتہ افراد کی رشتہ دار خواتین نےعورتوں کے عالمی دن کے موقع پر سنیچر کے روز لاہور میں ایک احتجاجی ریلی نکالی جس میں مختلف غیر سرکاری تنظیموں سے تعلق رکھنے والی خواتین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’مشرف مستعفی ہو کر قوم پر رحم کریں، عدلیہ کی بحالی عورت کی خوشحالی اور مظلوموں کی مدد کرنے والے چیف جسٹس کو رہا کرو جیسی عبارتیں لکھی ہوئی تھیں۔‘
خواتین مظاہرین نے ایبٹ روڈ سے لاہور پریس کلب تک ایک احتجاجی ریلی نکالی اور ’گو مشرف گو‘ اور لاپتہ افراد کو رہا کرو کے نعرے لگائے۔
اس موقع پر لاپتہ ہونے والے عبداللہ طاہر کی بزرگ رشتہ دار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عبداللہ کو اس سال جنوری میں
ان کے گھر سے منہ پر کپڑا ڈال کر اغواء کیا گیا اور ان کو آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ اسےکہاں لے جایا گیا ہے۔
![]() |
|
جنجوعہ نے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والی سیاسی جماعتوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے مسئلہ کو اپنے ایجنڈے میں اولین ترجیحی دیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے پندرہ مارچ تک لاپتہ افراد کوعدالتوں میں پیش نہ کیا تو اُن کی تنظیم پوری دنیا میں حکومت کے خلاف تحریک چلائے گی جس کا آغاز کراچی سے ہوگا۔
اس احتجاجی ریلی سے پہلے عورتوں کے عالمی دن کے حوالے سے ویمن ورکرز ہیلپ لائن نے ایک سیمینار کا بھی انعقاد کیا جس کا عنوان ’مشرف آمریت کو آخری دھکا’ تھا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین ختم کئے جائیں۔