Friday, 07 March, 2008, 13:09 GMT 18:09 PST
قومی اسمبلی کے گیارہ آزاد اراکینِ پارلیمان نے پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد مخلوط حکومت بننے کا راستہ صاف ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور مشرف مخالف جماعتیں دو تہائی کے ہدف کو چھوتی نظر آتی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق سات آزاد ممبر پارلیمان پاکستان پیپلز پارٹی جبکہ چار پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے ہیں۔
پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے صدر اور اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔
جمعرات کو ایک بیان میں جنرل کیانی نے جمہوری عمل کی حمایت اور فوج کو سیاسی معاملات سے دور رکھنے کی بات کی تھی۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ فوج کو غیر ضروری تنازعات میں نہ گھسیٹا جائے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے آرمی اور نشینل کمانڈ کے درمیاں تعلقات کو آئینی حدود میں رکھنے پر بھی زور دیا تھا۔
جمعرات کی شام ہی الیکشن کمیشن نے اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی 342 میں سے 331 نشستوں کے نتائج کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیشن نے خواتین اور اقلیتوں کی بھی مخصوص نشستوں کا اعلان کیا۔ جن گیارہ نشستوں کے نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا ان پر مختلف وجوہات کی بنا پر یا تو الیکشن ہونا باقی ہیں یا ان کے نتائج روک لیے گئے ہیں۔
کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے نتائج کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے پاس اب 120 نشتیں ہیں اور اس طرح وہ پارلیمان میں سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔
نواز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) 90 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔