Friday, 07 March, 2008, 19:45 GMT 00:45 PST
خواجہ رئیس الدین
مظفرآباد
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے ترجمان نےمتحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ کےاس بیان کی مذمت کی جس میں انہوں نے کہا کہ اگر وہ چاہیں توکروڑوں لوگ کشمیر اسمبلی آسکتے ہیں۔ ’ہم پرامن لوگ ہیں اور اپنے مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘۔
حکومت کےترجمان راجہ محمد یاسین نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے گزشتہ جمعرات کو کشمیر اسمبلی میں پیش آنے والے واقعےکو افسوسناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اسمبلی کے اندر اراکین اسمبلی ایک گھر کے افراد کی طرح ہوتے ہیں اور کبھی ان افراد میں تلخی بھی ہو جاتی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری پر امن لوگ ہیں اور ایک واقعے سے ان کی سوچ کے بارے میں رائے قائم نہ کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو دھمکیوں سے مرعوب نہیں کیا جاسکتا اور دور بیٹھ کر یہ کہنا کہ اگر وہ چاہیں تو ایک کروڑ لوگ کشمیر اسمبلی آسکتے ہیں قابل مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے چوڑیاں نہیں پہنی ہیں وہ ایک کروڑ کی بجائے دس کروڑ لے آئیں۔ ’اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی باہر بیٹھ کر ہم پر اپنی رائے مسلط کر ے گا تو یہ اس کی خوش فہمی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے گھر کے معاملات گھر ہی میں طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہم سے اگر غلطی ہوئی ہے تو ہم اس پر معذرت کریں گے لیکن کسی کی ڈکٹیشن قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ حزب اقتدار اور اختلاف کے درمیان باہمی رواداری کو پروان چڑھانے کے لیے اسمبلی کا خصوصی سیشن بلایا گیا اور افسوسناک واقعے پر حکومت کی طرف سے معذرت کی گئی جب کہ حزب اختلاف کے مطالبے پر ایک وزیر کی اسمبلی کی رکنیت بھی معطل کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی کے اجلاس کے دوران گزشتہ جمعرات کو اس وقت ہنگامہ ہوا تھا جب متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر طاہر کھوکھر ایک نوٹیفیکشن کی کاپی اراکین اسمبلی میں تقسیم کر رہے تھے اور اسی دوران ان کو حکومتی وزراء نے زدوکوب کیا۔
حکومتی نوٹیفیکشن کے مطابق وزیراعظم کے بیٹے عثمان عتیق کے بیرون ملک دورے کے دوران اٹھنے والے اخراجات حکومت نے برداشت کیے ہیں۔