Friday, 07 March, 2008, 16:29 GMT 21:29 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے شہر خضدار میں ایک پرنسپل کو قتل کیا گیا ہے اور حادثے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے شہر خضدار میں ڈویژنل پبلک سکول کے پرنسپل کو قتل کر دیا گیا ہے جب کہ شہر جھل مگسی میں سواریوں سے بھری ایک بس الٹ گئی ہے جس میں کم سے کم سات افراد ہلاک اور پینتیس زخمی ہوئے ہیں۔
جھل مگسی ہسپتال سے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ پینتیس زخمیوں میں سے پانچ کی حالت انتہائی تشویشناک ہے جنھیں سندھ کے شہر لاڑکانہ منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ دیگر کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ بس کا ٹائی راڈ ٹوٹنے سے پیش آیا ہے جس سے بس الٹ گئی ہے۔
مقامی صحافی رحمت اللہ نے بتایا ہے کہ اس علاقے میں بیشتر بسیں انتہائی پرانی ہیں اور ان میں ضرورت سے زیادہ سواریاں بٹھائی جاتی ہیں بس کی چھت پر بھی سواریاں بیٹھی ہوتی ہیں اور جانوروں کے علاوہ بھاری سامان لادا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اندروں بلوچستان بیشتر سڑکیں کم چوڑی اور ٹوٹی پھوٹی ہیں جس وجہ سے آئے دن حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔
اس سے قبل خضدار میں نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے ڈویژنل پبلک سکول کے پرنسپل کو ہلاک کر دیا۔
|
پرنسپل نماز ادا کر کے لوٹ رہے تھے
|
خصدار ہسپتال سے ڈاکٹر رفیق نے بتایا ہے کہ پرنسپل عاشق حسین کو تین گولیاں لگی ہیں جس سے وہ دم توڑ گئے ہیں۔ عاشق حسین کا تعلق پنجاب کے علاقے چنیوٹ سے بتایا گیا ہے۔
یاد رہے انتخابات سے پہلے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک پینٹر کو اس وقت گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ انتخابات کے ایک امیدوار کے بینر لکھ رہے تھے۔
اکیس فروری کو کوئٹہ میں کلی اسماعیل کے علاقے میں نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ٹریفک پولیس کے تین سپاہیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔