Friday, 07 March, 2008, 14:05 GMT 19:05 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
’فوج کو تنازعات میں نہ گھسیٹنے‘ کے آرمی چیف کے بیان نے جہاں پاکستان کے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے وہاں صدر پرویز مشرف کے سیاسی مستقبل کے بارے میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
کچھ سیاسی حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر ایسی کیا ضرورت پیش آئی کہ آرمی چیف کو کور کمانڈر کا اجلاس بلا کر جمہوری عمل کی کھل کر حمایت کرنے، صدر اور فوج میں فاصلے بڑھنے کا تذکرہ کرنے، فوج اور نیشنل کمانڈ کے درمیان تعلقات آئین کے دائرے میں رکھنے کی ضرورت محسوس کرانی پڑی۔
ان حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کیا صدر اور آرمی چیف کی چند روز قبل ہونے والی ملاقات میں کوئی ایسی بات ہوئی جس سے آرمی چیف کو کوئی خدشہ لاحق ہوا کہ پوری فوجی قیادت کو اکٹھا کر کے ’فوج کو تنازعات میں نہ گھسیٹنے‘ کا بیان جاری کرنا پڑا یا اس کا کوئی اور مقصد ہے۔
اس سوال پر سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ فوجی ہائی کمان کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کوئی غیر آئینی طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔ جب صدر پرویز مشرف کی مخالف سیاسی قوتوں کے پاس تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل ہے تو وہ انہیں کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں کیونکہ نئی اسمبلی سے تو وہ منتخب ہی نہیں ہوئے اور وہ صدر کا مواخذہ بھی کر سکتے ہیں۔
جب مرزا اسلم بیگ سے پوچھا گیا کہ کیا آرمی چیف کے بیان کا مقصد صدر پرویز مشرف کو حمایت کا یقین دلانا نہیں تو انہوں نے انیس سو ستتر کی مثال دی۔
’اُس وقت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور تینوں افواج کے سربراہان نے ذوالفقار علی بھٹو کو بھی یقین دلایا تھا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں لیکن پھر انہیں فوج نے ہی ہٹایا بھی تھا۔‘
مرزا اسلم بیگ کا موقف اپنی جگہ لیکن یہ محض اتفاق ہے یا کہ اس کے پس پردہ کوئی اور محرکات ہیں کہ الیکشن کمیشن نے پانچ مارچ کو
قومی اور صوبائی اسمبلی کے اکیس حلقوں کے نتائج عدالتوں کی جانب سے روکنے کی بنا پر خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ
مؤخر کرنے کا اعلان کیا جس سے حکومت سازی میں تاخیر کا تاثر بھی ملا۔
|
|
شاید یہ بھی محض اتفاق ہو کہ الیکشن کمیشن کا یہ اعلان کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے سے صرف ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد سامنے آیا۔
اس بارے میں بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ آرمی چیف کی صدر سے ملاقات، الیکشن کمیشن کی جانب سے مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ روکنے اور پھر اچانک جاری کرنے اور پھر آرمی چیف کا یہ بیان ایک ہی سلسلے کی کڑی ہو سکتی ہے۔
الیکشن کمیشن کے اعلان کے بعد قانونی طور پر اب کوئی وجہ باقی نہیں کہ صدر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں تاخیر کریں۔
مرکزی حکومت بنانے کے لیے صورتحال پہلے ہی واضح ہے اور مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے بعد تو پیپلز پارٹی اور ان کی اتحادی جماعتوں کے لیے دو تہائی اکثریت بھی اب کوئی مسئلہ نہیں رہا جس کی بناء پر وہ آئین میں ترمیم یا صدر کا مواخذہ کر سکتے ہیں۔
لیکن ایسی صورتحال کے باوجود صدر پرویز مشرف کے ترجمان میجر جنرل (ر) راشد قریشی کہتے ہیں کہ صدر پرویز مشرف آخری دم تک قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔
ان کے موقف سے قطع نظر، امریکہ کی جانب سے یہ کہنا کہ صدر پرویز مشرف کی قسمت کا فیصلہ پاکستانی عوام کریں گے، فوجی ترجمان کی جانب سے فوج اور نیشنل کمانڈ کے درمیاں تعلقات آئینی حدود میں رکھنے اور صدر پرویز مشرف کی مخالف سیاسی قوتوں کو دو تہائی اکثریت حاصل ہونے کی صورتحال کے تناظر میں کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ صدر پرویز مشرف اٹھارہ فروری کے انتخابی نتائج کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔ آئے روز ان کی باعزت واپسی کا آپشن محدود ہوتا جا رہا ہے۔