Thursday, 06 March, 2008, 17:07 GMT 22:07 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستانی ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکیل اکرام چوہدری نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے موکل کو نئی حکومت بننے سے پہلے ہی قتل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر قدیر کو کچھ ہوا تو وہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سمیت تمام حکومتی شخصیات کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروائیں گے جو ان کی سیکیورٹی پر معمور تھیں۔
اکرام چوہدری نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر کی حالت گزشتہ چار دن سے خراب تھی اور انہیں جان بوجھ کر طبی امداد فراہم نہیں کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا حکومت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پچھلے دروازے سے ہسپتال لے کر گئی انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت یہ سارا کچھ امریکہ کے دباؤ کے تحت کر رہی ہے کیونکہ حکومت کو معلوم ہوگیا ہے کہ ڈاکٹر قدیر کی نظر بندی کی قلعی کھلنے والی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو سیاسی جماعتیں ڈاکٹر قدیر کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے حوالے کرنے کی باتیں کر
رہی ہیں وہ اسی طرح کے ردعمل کے لیے تیار رہیں جو اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں عوام نے حکمران جماعت کے بارے میں
ظاہر کیا ہے۔
|
وزیرِ داخلہ کا ردِ عمل
|
اس ضمن میں جب بی بی سی نے پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزارت داخلہ سے رابطہ کریں۔
نگراں وزیر داخلہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مذکورہ وکیل کا بیان اس قابل نہیں ہے کہ اس کے جواب میں وزارت داخلہ کوئی بیان جاری کرے۔
فوج کے تعلقات عامہ کے شعبہ سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر خان نے کمزوری کی شکایت کی تھی جس پر انہیں
فوری طبی امداد دی گئی۔ ان کے معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔ فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ ڈاکٹر
خان کی صحت کے بارے میں عوام کو مطلع کیا جاتا رہے گا۔
|
شاید یہ انفیکشن ہے
|