http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 07 March, 2008, 04:18 GMT 09:18 PST

خواجہ رئیس الدین
مظفرآباد

کشمیر اسمبلی:وزیر کی رکنیت معطل

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں اجلاس کے دوران ہنگامہ ہوا ہے اور وزراء نے حزب اختلاف کے ایک رکن کو ایوان میں مبینہ طور پر زدوکوب کیا۔ سپیکر نے اس واقعے کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں کے مطالبے پر ایک وزیر کی اسمبلی رکنیت معطل کردی ہے۔

اسمبلی میں ہنگامی آرائی اس وقت شروع ہوئی جب متحدہ قومی موومنٹ کے اسمبلی میں پارلیمانی لیڈرطاہر کھوکھر نے ایوان میں ایک نوٹیفیکیشن تقسیم کرنے کی کوشش کی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر طاہر کھوکھر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تین وزراء نے حملہ کیا، مجھے مکے مارے گئے اور میرا ایک طرف کا کان بند ہوگیا‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایک نوٹیفیکیشن وزیر قانون کے سپرد کرنا چاہتے تھے کہ منتخب عوامی نمائندوں کو بتائے بغیر مخصوص لوگوں کو بیرون ملک دوروں پر بھیجا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا قانونی حق ہے کہ ہم پوچھیں کہ کس کو کہاں اور کیوں بھیجا جارہا ہے اور جو لڑکیاں بھیجی جارہی ہیں یہ کون ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تین ماہ کے بعدایک دو دن کے لیے اسمبلی کا اجلاس بلایا جاتا ہے اور ہم اگر کسی مسئلے پر آواز نہ اٹھائیں تو اس اسمبلی کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے ۔یہاں تالے لگائے جانے چاہیں اوراسلام آباد میں بیٹھ جائیں۔

اسمبلی کے اجلاس میں اس واقعے کے بعد متحدہ اپوزیشن نے اجلاس سے واک آوٹ کیا اور اپوزیشن چیمبر میں قائم مقام قائد حزب اختلاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل چوہدری لطیف اکبر نے اپویشن کے اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس کی اور واقعے میں ملوث وزراء کی اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔

چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ کشمیر کی پارلیمانی تاریخ میں یہ پہلاواقعہ ہے کہ ایوان میں کسی رکن اسمبلی پر حملہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف خاموش نہیں رہے گی اور اسمبلی کے باہر کشمیر بھر میں عوامی قوت سے حکومتی وزراء کا گھیراؤ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سپیکر کے سامنے معاملہ اٹھایا گیا ہے اور متحدہ پوزیشن نےان سے واقعے میں ملوث وزراءکی اسمبلی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جس پر سپیکر شاہ غلام قادر نے وزیر مذہبی امور حافظ حامد رضا کی رکنیت معطل کردی اوراسمبلی کا اجلاس بھی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے اس واقعے کی مذمت کی اور اس کو حکمران جماعت کا متعصبانہ رویہ قرار دیا ہے۔
کراچی میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں ملوث ایک وزیر کی اسمبلی کی رکنیت سے معطلی کافی نہیں ہے حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کے مطالبات کی روشنی میں تین وزراء کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور جو مسئلہ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی نے ایوان میں اٹھایا اس کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا جائے کہ کشمیرکے اس علاقے کے وزیر اعظم کابیٹا سرکاری خرچے پر بیرون ملک کیا کرنے جا رہا ہے اور ان کے ہمراہ جانے والے کون ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ ملک بھر میں احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں ۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون سازاسمبلی میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ بتایا جارہا ہے اور یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ بیرون ملک دوروں کا مسئلہ کسی رکن اسمبلی نے ایوان میں اٹھانے کی کوشش کی ہے۔