Wednesday, 05 March, 2008, 16:05 GMT 21:05 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان الیکشن کمیشن نے مختلف عدالتوں کی جانب سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اکیس حلقوں کے نتائج روکنے کے بعد خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ مؤخر کردی ہے جس سے حکومت سازی میں بھی تاخیر ہوسکتی ہے۔
الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور محمد دلشاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض نتائج عدالتوں کی جانب سے روکے جانے کی وجہ سے مخصوص نشستوں کی تقسیم چند روز کے لیے روک دی گئی ہے۔
مخصوص نشستوں کی تقسیم روکنے کی وجہ سے حکومت سازی میں بھی کچھ روز کی تاخیر ہو سکتی ہے۔
قانون کے مطابق حتمی نتائج کے بعد آزاد امیدواروں کو تین روز کی مہلت دی جاتی ہے کہ اگر وہ اپنی پسند کی جماعت میں اگر شامل ہونا چاہیں تو شامل ہوجائیں۔
یہ مہلت چار مارچ کو ختم ہوگئی اور اس اعتبار سے الیکشن کمیشن کو پانچ مارچ تک مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کردینی چاہیے تھی لیکن
اب اس میں تاخیر ہو رہی ہے۔
|
|
دریں اثناء الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک سے زیادہ نشستیں جیتنے والے اراکین اسمبلی قانون کے مطابق انتخابی نتائج کے حتمی اعلان کے تیس دن کے اندر ایک نشست اپنے پاس رکھیں اور دیگر سے مستعفی ہوجائیں۔
حتمی نتائج کے مطابق پندرہ کے قریب ایسے امیدوار ہیں جو ایک سے زیادہ حلقوں سے منتخب ہوئے ہیں۔ ان میں مسلم لیگ نواز کے جاوید ہاشمی تین حلقوں سے منتخب ہوئے ہیں جبکہ چودہ دیگر امیدوار دو دو حلقوں سے منتخب ہوئے ہیں۔
ایک اور بیان میں کنور دلشاد نے ہارنے والے امیدواروں کو یاد دلایا ہے کہ اگر ان میں سے کسی کو کسی کے خلاف اعتراض ہے تو انتخابات کے حتمی نتیجے کے پینتالیس روز کے اندر اپنی انتخابی پٹیشن سیکریٹری الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرائیں۔