ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ ہائی کورٹ نے قومی مصحالتی آرڈیننس کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف مختلف ممالک میں دائر احتساب ریفرنس ختم کرکے اکیس مارچ کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
آصف علی زرداری کے وکیل سینیٹر فاروق نائیک نے پٹیشن میں موقف اختیار کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو کو ہدایت کی جائے کہ لندن، جنیوا اور پاکستان میں التویٰ کا شکار احتساب ریفرنس قومی مصحالتی آرڈیننس کے تحت منسوخ ہوچکے ہیں اور حکومت کو ان سے دستبردار ہونا چاہیئے۔ آصف علی زرداری پر ایس جی ایس ، کوٹینکا، اے آر وائی گولڈ اور ٹریکٹر ریفرنس مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کی جسٹس مسز قیصر اقبال اور جسٹس محمود عالم رضوی پر مشتمل ڈویزن بینچ میں منگل کو اس درخواست کی سماعت ہوئی۔
ایڈووکیٹ فاروق نائیک نے عدالت کو بتایا کہ قومی مصحالتی آرڈیننس دو ہزار سات کے تحت بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے تک کے تمام ریفرنس اور تحقیقات ختم ہوچکی ہیں۔ مگر اس کے باوجود حکومت نے اس پر کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔
احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل ڈاکٹر دانش نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت قومی مصحالتی آرڈیننس پر مکمل طور پر عملدرآمد
کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ کے حکم کی وجہ سے عمل درآمد روکا ہوا تھا، کچھ روز قبل سپریم کورٹ نے قومی مصحالتی آرڈیننس
پر مکمل طور پر عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔
|
|
فاروق نائیک نے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل ڈاکٹر دانش سے سوال کیا کہ اس آرڈیننس پر کب تک عمل درآمد کیا جائےگا، جس پر انہوں نے عدالت سے مہلت طلب کی۔ عدالت نے حکومت کو دو ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے حکم جاری کیا کہ اکیس مارچ تک تمام مقدمات ختم کرکے عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے۔
واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی ملک واپسی سے قبل صدر پرویز مشرف نے قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری کیا تھا، جس کے تحت انیس سو ننانوے تک سیاسی رہنماؤں پر دائر بدعنوانی اور دیگر مقدمات کا ازخود خاتمہ ہوگیا تھا۔ تاہم معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے قومی مصحالتی آرڈیننس پر عملدرآمد کو روکتے ہوئے اس کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا تھا۔
گزشتہ دنوں عبوری آئینی حکم کے تحت وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے قومی مصحالتی آرڈیننس کے خلاف حکم امتناعی واپس لیتے ہوئے
اسے بحال کر دیا تھا۔