Saturday, 01 March, 2008, 12:34 GMT 17:34 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام،اسلام آباد
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کیس کا چالان پولیس نے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک میں پیش کردیا ہے۔
بینظیر قتل کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی چودھری عبدالمجید نے سنیچر کو چالان عدالت میں پیش کرنے کی تصدیق کی ہے۔
پولیس نے قتل کی سازش کا منصوبہ ساز پاکستانی طالبان شدت پسندوں کے رہنما بیت اللہ محسود کو قرار دیا ہے اور ان سمیت بعض ملزمان کو مفررو ظاہر کیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق تھانہ سول لائن کی جانب سے بینظیر بھٹو قتل کیس کے دو ملزمان حسنین گل اور رفاقت کو جیل سے لاکر انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک کے جج چودھری حبیب الرحمٰن کے سامنے پیش کیا۔
تھانہ سول لائن نے دونوں ملزمان کا چئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی لیفٹیننٹ جنرل طارق مجید کی رہائش گاہ کی ایک چوکی پر خود کش حملے کے کیس میں پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا ہے۔
عدالت نے بینظیر بھٹو قتل کیس میں زیر حراست دو اور ملزمان شیر زمان اور اعتزاز شاہ کو جیل بھیجنے کا حکم دیا اور چھ مارچ تک سماعت
ملتوی کردی۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت اس اہم ترین مقدمے کی ابتدائی سماعت چھ مارچ کو کرے گی۔
|
دو ملزمان کو جیل بھیجنے کا حکم
|
پیپلز پارٹی کا مطالبہ رہا کہ بینظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرائی جائے لیکن صدر پرویز مشرف نے ان کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے قتل کی وجہ جاننے کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم بلوائی۔ پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری اعلان کرچکے ہیں کہ ان کی حکومت کا پہلا فیصلہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کے بارے میں ہوگا۔
یاد رہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد حکومت نے متضاد بیانات دیے اور ابھی تحقیقات شروع ہی نہیں ہوئی تھی کہ صدر پرویز مشرف نے قتل کا منصوبہ ساز شدت پسند رہنما بیت اللہ محسود کو قرار دے دیا تھا۔