Friday, 29 February, 2008, 17:09 GMT 22:09 PST
نگران وزیراعظم اور سینٹ چیئرمین کے عہدوں پر فائز محمد میاں سومرو نے ریٹائرڈ چیئرمین سینیٹ کو جو دس اضافی مراعات دینے کا حکم جاری کیا ہے ان کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
•تاحیات بغیر لائسنس کے ممنوعہ بور کے تین قسم کے ہتھیار اور غیر ممنوعہ بور کے چھ ہتھیار رکھنا۔
•ملک بھر میں کہیں بھی سرکاری گیسٹ ہاؤس/ ریسٹ ہاؤس/ سرکٹ ہاؤس میں اپنے، شریک حیات اور ساتھ رہنے والے بچوں کے لیے مفت رہائش فراہم کرنا۔(چاہے وہ اکٹھے ہوں یا اکیلے)
•اپنے، شریک حیات اور ساتھ رہنے والے بچوں کو ملک کے تمام ہوائی اڈوں سے مکمل پروٹوکول کے ساتھ پک اینڈ ڈراپ کرنے (چاہے وہ اکیلے ہوں یا اکٹھے) اپنے ہیڈ کورٹر سے باہر جانے کی صورت میں سٹاف کار کی فراہمی۔
•ریٹائرڈ سینیٹ چیئرمین ان کی شریک حیات یا ساتھ رہنے والے بچے جب بھی اکٹھے یا اکیلے پاکستان بھر میں ہیڈ کوارٹر سے باہر ہوں تو سٹاف کار رکھ سکتے ہیں۔(کوئی مدت طے نہیں)
•سرکاری خرچ پر پرائیویٹ سیکریٹری، سیکورٹی گارڈ اور باورچی کی زندگی بھر فراہمی۔
•اپنی، شریک حیات اور ساتھ رہنے والے بچوں کی ملک کے اندر یا بیرون ملک زندگی بھر مفت طبی امداد بشرطیکہ میڈیکل بورڈ اجازت دے۔ (اخراجات کی حد کا کوئی تعین نہیں)
•ریٹائرڈ چیئرمین سینیٹ، شریک حیات اور ساتھ رہنے والے بچوں کے لیے سفارتی پاسپورٹ کی فراہمی۔
•حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کرنا، چاہے ان کی یا اہل خانہ کی درخواست پر یا وفاقی حکومت اپنی مرضی کے مطابق جو بہتر سمجھے۔
•رہائش گاہ پر مفت ٹیلی فون لگانے اور ماہانہ پانچ ہزار روپے تک بل حکومت ادا کرے گی۔ اس رقم میں وفاقی حکومت جب مناسب سمجہے وقت کے ساتھ ساتھ اس کا تعین کرسکتی ہے۔
•ملک بھر کے تمام ہوائی اڈوں پر اپنے، شریک حیات، ساتھ رہنے والے بچوں اور دو ملازمین کے لیے ’ایپرن پاسز‘ جاری کیے جائیں گے۔