Thursday, 28 February, 2008, 13:44 GMT 18:44 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے ملک دین خیل قبائل نے تقریباً تین ہفتے قبل لاپتہ ہونے والے پاکستانی سفیر طارق عزیز الدین کے مبینہ اغواء سے مکمل طور پر لاعملی کا اظہار کیا ہے۔
سترہ دن گزرنے کے باوجود افغانستان میں متعین پاکستانی سفیر کی بازیابی میں تاحال کوئی خاص پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔
اس حوالے سے جمعرات کو خیبر ایجنسی میں کٹا کوشتہ کے مقام پر ملک دین خیل اور اس کے ذیلی شاخ جھنڈا خیل قبائل کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں علاقے کے مشران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
جرگہ کے ایک سرکردہ رکن اور ایجنسی کونسلر ملک حضرت ولی نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگہ میں شامل تمام مشران نے باری باری جرگہ کو یہ یقین دہانی کرائی کہ لاپتہ ہونے والے سفیر طارق عزیز الدین ان کے علاقے میں موجود نہیں ہیں۔
ان کے مطابق جرگہ نے متفقہ طورپر فیصلہ کیا کہ اگر کوئی شخص یا قبیلہ سفیر کے اغواء میں ملوث پایا گیا تو ان کو قبائلی روایات کے تحت علاقہ بدر کرنے کے علاوہ ان کا گھر بھی مسمار کیا جائے گا جبکہ ان سے پچاس لاکھ روپے جرمانہ بھی وصول کیا جائے گا۔
قبائلی مشیر نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں جمعہ کو جرگہ جمرود تحصیل کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ سے ملاقات کرے گا اور انہیں تمام حالات سے آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’حکومت کو جب خود معلوم نہیں کہ اغواء شدہ سفیر کہاں ہیں تو ہم پھر کہاں انہیں تلاش کریں‘۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کی طرف سے علاقائی ذمہ داری کے تحت گرفتار ہونے والے جھنڈا خیل قبیلے کے نو افراد کو فوری طورپر رہا کیا جائے۔
مقامی انتظامیہ نے ملک دین خیل اور جھنڈا خیل قبائل کو تین دن کے اندر سفیر بازیاب کرنے کی مہلت دی تھی جو جمعرات کی شام ختم ہو رہی ہے۔ حکومت نے دھمکی دی تھی کہ مہلت ختم ہونے پر قبائل کے خلاف اجتماعی ذمہ داری کے تحت کارروائی ہوگی۔
واضح رہے کہ تقریباً تین ہفتے قبل افغانستان میں متعین پاکستانی سفیر طارق عزیز الدین افغانستان جاتے ہوئے خیبرایجنسی میں علی مسجد کے علاقے سے ڈرائیور اور محافظ سمیت لاپتہ ہوگئے تھے۔
ادھر نیم خودمختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کے تین قبائل نے آئندہ مقامی طالبان کو پناہ نہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ درہ آدم خیل کے نائب پولیٹکل تحصیلدار سلیم عصمت گنڈاپور نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو درہ آدم خیل میں شیراکی، بوستی خیل اور تورچپر قبائل کا ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں حکومت کو یقین دہانی کرائی گئی کہ آئندہ علاقے میں مقامی طالبان کو کسی صورت پناہ نہیں دی جائےگی۔