Wednesday, 27 February, 2008, 17:47 GMT 22:47 PST
بیورو رپورٹ
اسلام آباد
پاکستان نے غیر ملکی سفارتکاروں سے کہا ہے کہ وہ سیاستدانوں سے ملاقاتوں کے دوران سفارتی تقاضوں اور آداب کی پاسداری کریں اور کوئی ایسا بیان دینے سے گزیر کریں جو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت تصور ہو۔
تاہم دفترخارجہ کے ترجمان محمد صادق نے کہا کہ پاکستان میں کوئی ایسا قانون نہیں جو ان ملاقاتوں کو روک کر سکے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے کہا ہے کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو یہاں کے سیاستدانوں، صحافیوں اور شہریوں کی غیر ملکی سفارتکاروں سے ملاقاتوں کو ممنوع قرار دے سکے۔
بدھ کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کہ غیر ملکی سفارت کاروں کی سیاستدانوں کے ساتھ تواتر سے ملاقاتیں سفارتی آداب کے خلاف نہیں، انہوں نے کہا کے سفارتکاروں کے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتوں پر کوئی پابندی نہیں اور نہ ہی یہ غیر قانونی ہیں لیکن ان کی جانب سے ملک کے اندرونی معاملات پر منبی کوئی بھی بیان سفارتی آداب کے منافی ہے۔
قیدیوں سے متعلق پاک بھارت مذاکرات کے بارے میں ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ پاکستانی اور بھارتی مشترکہ جوڈیشل کمیٹی نے دونوں
حکومتوں کو تجویز دی ہے کہ اکتیس مارچ تک دونوں ممالک کی جیلوں میں موجود قیدیوں کی مکمل اور ٹھوس فہرستوں کا تبادلہ کیا جائے۔
|
سفارتکاروں کی ملاقاتیں اور بیان
|
کمیٹی اس بات پر بھی رضامند ہوئی ہے کہ سفارتی سطح پر اپریل میں پاکستان کی جیلوں کا معائنہ کیا جائے گا اور پھر اس کے بعد بھارت کی جیلوں کا معائنہ بھی کیا جائے گا۔
قیدیوں کی تعداد سے متعلق ایک سوال کے جواب پر انہوں نے بتایا کے اس وقت ساڑھے چار سو کے قریب پاکستانی قیدی بھارتی جیلوں میں اور تقریباً پانچ سو کے قریب بھارتی قیدی پاکستان کی جیلوں میں قید ہیں۔ ان کے جرائم معمولی نوعیت کے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے سن دوہزار تین سے اب تک دو ہزار چھ سو ستاون بھارتی قیدیوں کو جبکہ بھارت نے آٹھ سو ستائیس پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا ہے۔
پاک بھارت مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا عمل جاری ہے اور اب چوتھے مرحلے کے اختتام کے بعد اس کے جائزے اور پھر پانچویں مرحلے کو شروع کرنے کے لیے سفارتی سطح پر تاریخیں مقرر کی جا رہی ہیں۔
پاکستانی سفیر طارق عزیز الدین کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ان کے بارے میں کوئی اطلاعات
نہیں ہیں لیکن ان کی محفوظ بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
|
پاکستانی اور ہندوستانی قیدی
|
کوسوو کو تسلیم کرنے کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ کوسوو کی حمایت کی ہے اور اب اس کو تسلیم کرنے کے مسئلے پر او آئی سی اور دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں کیونکہ کسی ملک کی شناخت ایک آئینی مسئلہ ہے۔