Tuesday, 26 February, 2008, 14:44 GMT 19:44 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سینٹ میں سابق حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کے چار اور دیگر جماعتوں کے دو اراکین نے ’ہم خیال گروپ‘ تشکیل دیا ہے تاکہ بقول اس گروپ کے کہ وہ کام کریں جو سچا ہو۔
مسلم لیگ (ق) کی سینیٹر نیلوفر بختیار، ولی محمد بادینی، چوہدری ظفر اقبال اور امجد عباسی کے علاوہ دیگر دو اراکین میں بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے اسرار زہری اور پیپلز نیشنل پارٹی کے آصف جتوئی شامل ہیں۔
اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر نیلوفر بختیار نے کہا کہ انہیں ان کی جماعت کی جانب سے کسی کارروائی کا کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ اب وہ سیاست کریں گے جو عوام چاہتے ہیں۔ ’ہم نہ صرف پاکستان بلکہ اپنی جماعت کے اندر جمہوریت لانا چاہتے ہیں۔‘
پاکستان میں عام انتخابات کے بعد ایک روایت سیاسی جماعتوں میں ’فاروڈ بلاک‘ کا قیام بھی ہوتا ہے۔ کبھی ہارنے والی اور کبھی جیتنے والی جماعتوں کے اراکین حکومت سازی کے لیے یا پھر خود ذاتی مفاد کے لیے دھڑے بندی کر لیتے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر سیاحت اور صدر پرویز مشرف کے قریب سمجھی جانے والی نیلوفر بختیار گزشتہ برس کافی تنازعات کا شکار رہیں۔ انہیں فرانس میں ایک شخص کے ساتھ پیراجمپنگ کرنے پر لال مسجد کی جانب سے فتویٰ کا سامنا کرنا پڑا تھا اور وزارت اور مسلم لیگ کی خواتین ونگ کی صدارت چھوڑنا پڑی تھی۔ نیلوفر بختیار ہی بظاہر اس نئے گروپ کی روح رواں ہیں۔
اس سول پر کہ صدر کے خلاف مواخذے کی صورت میں ان کا ردعمل کیا ہوگا، نیلوفر بختیار کا جواب گول مول تھا کہ اس کا فیصلہ وہ اس معاملے
کے ایوان میں آنے پر کریں گے۔ ’ہم نے اتفاق کیا ہے کہ کوئی فیصلہ باہمی مشاورت کے بغیر نہیں کریں گے۔‘
|
|
ان کا کہنا تھا کہ گروپ کے اراکین نے اپنی جماعتیں ابھی نہ چھوڑی ہیں اور نہ چھوڑنے کا ارادہ ہے۔ ’ہم اپنی نشستوں پر ہی بیٹھیں گے۔‘
اس گروپ کے قیام میں تاخیر کے بارے میں اس کے رکن ولی محمد بادینی کا موقف تھا کہ وہ بہتری کے انتظار میں رُکے رہے۔ ’بلوچستان پر رپورٹ تیار کی گئی لیکن ہم آج تک انتظار میں تھے کہ آج ایوان میں پیش ہوگی آج ہوگی لیکن نہیں ہوئی۔ اب ہم نے ناامید ہوکر یہ قدم اٹھایا ہے۔‘
سابق حکمراں جماعت میں پنجاب اور قومی اسمبلی میں فارورڈ بلاکس بننے کی افواہیں گردش میں تو کافی دنوں سے ہیں لیکن ایوان بالا
میں اس طرح برملا اس قسم کے گروپ کے قیام کا اس حوالے سے پہلا اعلان ہے۔