http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 24 February, 2008, 12:18 GMT 17:18 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور

طالبان کا سیاسی جماعتوں کو پیغام

پاکستان میں مقامی عسکریت پسندوں کی تنظیم نے حالیہ انتخابات میں کامیاب ہونے والی سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس راستے پر چلنے کی کوشش نہ کرے جس پر صدر پرویز مشرف اور انکی حامیوں نے چل کر الیکشن میں شکست کھائی بلکہ عوامی رائے کا احترام کریں اور اس کا حق ادا کیا جانا چاہیے۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے اتوار کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ تحریک نے انتخابات سے قبل وزیرستان سے لے کر سوات تک غیر مشروط طورپر جنگ بندی کی تاکہ ملک میں انتخابی عمل پرامن ماحول میں مکمل ہوسکے۔

ان کے مطابق سیاسی جماعتوں سے ان کی پہلے کبھی دشمنی تھی اور نہ اب ہے بلکہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کی تنظیم نے الیکشن سے پہلے غیر مشروط طورپر جنگ بندی کرکے ملک میں پرامن انتخابات کےلیے راہ ہموار کی تاکہ عوام بغیر کسی خوف وخطر کے انتخابی عمل میں حصہ لے سکیں۔

ترجمان نے کہا کہ ’انتخابات میں صدر مشرف اور ان کی حامیوں کی شکست امریکہ اور ان کی پالسیوں کی شکست ہے جو طالبان کی قربانیوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔‘

مولوی عمر نے بتایا کہ عوام نے صدر مشرف اور امریکی پالیسوں کے خلاف جو رائے دی ہے، سیاسی جماعتوں کو اب چاہیے کہ وہ اس عوامی رائے کا احترام کریں اور ان پالسیوں اور غلطیوں کو نہ دہرائیں جو اس سے پہلے حکمران کرتے رہے ہیں۔

ترجمان کے بقول طالبان اس ملک کے محب وطن شہری اور بغیر تنخواہ کے سپاہی ہے۔

واضح رہے کہ اٹھارہ فروری دو ہزار اٹھ کے عام انتخابات سے قبل صوبہ سرحد کے چوبیس اضلاع میں سے اٹھارہ کو حساس قرار دیا جاچکا تھا۔ یہ خدشات عام تھے کہ انتخابات کے دن سرحد میں بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات رونما ہونگے لیکن غیر متوقع طورپر صوبہ میں الیکشن بڑے پرامن ماحول میں ہوئے اور کسی بھی علاقے میں کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا جب کہ اس کے برخلاف پنجاب اور سندھ میں تشدد کے واقعات زیادہ پیش آئے۔