Sunday, 24 February, 2008, 18:38 GMT 23:38 PST
آئی ایس آئی کے ایک سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل (ریٹائرڈ) احتشام ضمیر نے کہا ہے کہ فوج کا خفیہ ادارہ ’پولیٹیکل مینجمنٹ‘ کرتا ہے اور اس کا اس کو قانونی اختیار حاصل ہے۔
بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انٹر سروسز انٹیلیجنس ایجنسی (آئی ایس آئی) کو ملک کے اندر سیاسی ’مینجمنٹ‘ کرنے کا قانونی اختیار انیس سو پچھہتر میں جاری ہونے والے ایک ’ایگزیکٹو آرڈر‘ کے تحت حاصل ہے۔
پاکستان کے ایک انگریزی روزنامہ میں اتوار کو ان سے منسوب ایک بیان شائع کیا گیا تھا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر سن دو ہزار دو کے الیکشن میں آئی ایس آئی کی طرف سےدھاندلی کا اعتراف کیا تھا۔
اس بیان کی انہوں نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ سن دو ہزار دو کے انتخابات میں الیکشن یا پولنگ کے دن کوئی دھاندلی نہیں ہوئی تھی۔
اس خبر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں اس کی تحریری تردید دے چکا ہوں، جس میں کارسپانڈنٹ کے ساتھ ہونے والی میری ذاتی گفتگو کو جس سنسنی خیز طریقے سے شائع کیا گیا ہے وہ صحیح نہیں ہے اور سیاق و سباق سے باہر ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں اب بھی اس بات پر قائم ہوں اور پہلے بھی تھا کہ دو ہزار دو کے انتخابات میں جو وہ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن
ڈے پر دھاندلی ہوئی، کوئی ایسی دھاندلی نہیں ہوئی‘۔
|
پولیٹیکل مینجنمنٹ ہوتی ہے
|
جب ان سے اس کی مثال دینے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ’پولیٹیکل مینجنمنٹ ہوتی ہے لیکن اسے ایسے شائع کیا گیا ہے کہ جیسے کوئی اقبالِ جرم کر رہا ہے۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے‘۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا آپ نے یہ نہیں کہا کہ ’قومی احتساب بیورو کو بھی استعمال کیا گیا، سیاستدانوں کو صدر مشرف کے کیمپ میں لانے کے لیے؟‘
میجر جنرل (ریٹائرڈ) احتشام ضمیر نے کہا ہے کہ ’یہ تو وہ کارسپونڈنٹ کہہ رہے تھے کہ سارا آئی ایس آئی کا، میں نے کہا کہ ایسا نہیں اگر وہ ان کا ہے تو ان کے ذمے ہے، ہماری چیزیں ہمارے ساتھ ہیں لیکن جس طرح انہوں نے دو ہزار دو کے انتخابات میں انہوں نے رگّنگ کے بات کی ہے۔ اس طرح میں ان سے نہیں کی‘۔
اس سوال کے جواب میں کہ آپ یہاں تک مان رہے ہیں کہ سنہ دو ہزار دو کے انتخابات میں آئی ایس آئی نے کردار ادا کیا ہے؟
انہوں نے جواب دیا کہ ’الیکشن ڈے تک جی۔ جب رگنگ کہہ رہے ہیں تو وہ تو غلط بات کر رہے ہیں‘۔