Sunday, 24 February, 2008, 19:59 GMT 00:59 PST
ارمان صابر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے بلوچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر معافی طلب کرنے کے عمل کا بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ) ابھی جائزہ لے رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ماضی کی طرح اب وہ صرف الفاظ پر یقین نہیں کریں گے بلکہ وعدے کرنے والوں کے عمل کا انتظار کریں گے۔
بی این پی یعنی بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ نے اتوار کو کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ سردار اختر جان مینگل کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور بلوچوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کو ختم کیا جائے۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور وہ اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔
قراردادوں میں پیپلز پارٹی نے پاکستانی عوام کی طرف سے بلوچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافیوں کی معافی مانگتے ہوئے
باہمی عزت و احترام اور حسنِ سلوک کا نیا باب شروع کرنے کا وعدہ کیا۔
|
ظلم و تشدد کا سلسلہ جاری ہے
|
انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ سال گذرنے کے باوجود سردار اختر مینگل کو رہا نہیں کیا گیا ہے ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے بلوچستان کے مظلوم عوام کے لیے آواز بلند کی تھی، دوسری جانب بلوچستان میں ظلم اور کئی علاقوں میں تشدد کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور سینکڑوں بلوچ اب تک نہ صرف لاپتہ ہیں بلکہ قید میں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد الیکشن تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ بلوچستان کی خودمختاری تک جاری رہے گی۔
حمید ساجنا نے سردار اختر مینگل کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان کی رہائی کے لیے بلوچ پرامن جدوجہد کرتے رہیں گے چاہے انہیں اپنی جانوں کا نذرانہ ہی کیوں نہ پیش کرنا پڑے۔