Saturday, 23 February, 2008, 02:29 GMT 07:29 PST
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے پرزور طریقے سے کہا ہے کہ امریکہ صدر پرویز مشرف کے ساتھ کام کرنا جاری رکھے گا۔
رائس نے افریقہ کے دورے سے واپسی پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں انہوں صدر مشرف کو ایک ہی پیغام دیا تھا کہ ایمرجنسی ہٹائیں، وردی اتاریں اور اپنے ملک کو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی طرف لے جائیں اور ’انہوں نے بالکل ویسا ہی کیا ہے‘۔
اس سے پہلے وائٹ ہاوس کی ترجمان نے ایک بیان دیا تھا کہ پاکستان کو صدر مشرف کی ضرورت ہے یا نہیں یہ وہاں کی عوام کا فیصلہ ہوگا۔ لیکن کونڈولیزا رائیس کے بیان سے ظاہر ہے کہ امریکہ فی الحال صدر مشرف سے ہاتھ نہیں چھڑوانا چاہتا۔
امریکہ میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ کچھ ایسے سمجھوتے بھی کیے ہوئے ہیں جن کی منظوری صدر مشرف نے دی ہے اور جو خاص طور پر قبائلی علاقوں کے بارے میں ہیں۔
جمعہ کو نیویارک ٹائمز نے یہ بھی خبر شائع کی تھی کہ پچھلے کچھ مہینوں میں امریکہ نے ان علاقوں میں ڈرون جہازوں کی مدد سے ان علاقوں میں مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملوں کو تیز کرنے کی منظوری لے لی تھی۔ فی الحال کسی اہلکار نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسی طرح کے فیصلوں کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کے نہ رہنے سے مشکلات پیش آئیں گی۔