http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 23 February, 2008, 17:10 GMT 22:10 PST

عزیز اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

مغوی اے ایس پی اور محافظ بازیاب

بلوچستان میں چمن کے مغوی اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ان کے تین محافظوں سمیت مذاکرات کے بعد بازیاب کرالیا گیا ہے۔

قلعہ عبداللہ کا علاقہ چمن اور کوئٹہ کے درمیان واقع ہے جہاں سنیچر کی صبح علاقے کے لوگوں نے روڈ بلاک کر رکھا تھا اور پولیس کارروائی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

قلعہ عبداللہ کے پولیس افسر وزیر خان ناصر نے بتایا ہے کہ سنیچر کی صبح اے ایس پی سلیم مروت چمن سے کوئٹہ مظاہرین سے بات کرنے گئے تو انہیں اسلحہ کے زور پر محافظوں سمیت اغوا کر لیا گیا۔
چمن سے آمدہ اطلاعات کے مطابق پولیس کی کرائمز برانچ نے گزشتہ روز محکمہ تعلیم کے افسر کی بازیابی کے لیے اسی علاقے میں چھاپہ مار کر کچھ افراد کو گرفتار کیا تھا۔

لوگوں نے بتایا ہے کہ سنیچر کا مظاہرہ انہی گرفتار افراد کی بازیابی کے لیے کیا جا رہا تھا۔

اس کے علاوہ پولیس نے کوئٹہ میں ٹریفک پولیس پر حملے کے حوالے سے کم سے کم سات مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جن سے پولیس حکام کے مطابق پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

یاد رہے دو روز پہلے کلی اسماعیل میں نا معلوم افراد نے ٹریفک پولیس کے ایک سب انسپکٹر سمیت تین اہکاروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری خود کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نے قبول کی تھی۔

ادھر جمعہ کو نامعلوم افراد نے سوئی میں اٹھارہ انچ قطر کی ایک پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا تھا اور جمعہ کی رات ڈیرہ بگٹی اور جعفر آباد کے سرحدی علاقے دیناری پٹ میں پولیس کی ایک چوکی پر راکٹوں اور دیگر اسلحے سے حملہ کیا گیا ہے جس میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
خود کو ایک اور مسلح کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر ان حملوں کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔